سنن نسائی حدیث ۴۹۲ - جدھر رخ کرو اللہ ہی کی طرف

سفر میں سواری پر نماز اور آیت فأينما تولوا

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۹۲

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، عَنْ يَحْيَى ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، قال : حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يُصَلِّي عَلَى دَابَّتِهِ وَهُوَ مُقْبِلٌ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ ، وَفِيهِ أُنْزِلَتْ فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ سورة البقرة آية 115 " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر (نفل) نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے، اسی سلسلہ میں یہ آیت کریمہ: «فأينما تولوا فثم وجه اللہ» ”تم جدھر بھی منہ کرو ادھر ہی اللہ کا منہ ہے“ (البقرہ: ۱۱۵) نازل ہوئی۔

سنن نسائی حدیث ۴۹۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی سواری پر نماز پڑھ رہے تھے، اور آپ مکہ سے مدینہ آ رہے تھے۔ اسی سلسلے میں آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» نازل ہوئی، یعنی تم جدھر بھی رخ کرو، ادھر ہی اللہ کا رخ ہے۔ روایت کا اصل موضوع سفر میں سواری پر نماز ہے۔ یہاں حدیث میں فرض نماز کی بات نہیں آئی، بلکہ دوسری روایات میں اسی مضمون کے ساتھ نفل نماز کا ذکر بھی آتا ہے۔ اس حدیث میں آیت کا تعلق اسی عمل کے ساتھ بیان ہوا ہے کہ سفر کی حالت میں سواری پر نماز ادا کی گئی۔ اس لیے اس حدیث کو سمجھتے وقت سواری، سفر، نماز اور آیت کے باہمی تعلق کو سامنے رکھا جائے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم نے سفر میں سواری پر نماز ادا فرمائی۔
  • یہ واقعہ مکہ سے مدینہ آتے ہوئے بیان ہوا ہے۔
  • آیت «فأينما تولوا فثم وجه الله» اس سلسلے میں ذکر کی گئی۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں