سنن نسائی حدیث ۴۹۴ - قباء میں قبلہ کی تبدیلی
قباء کی فجر میں قبلہ کعبہ کی طرف بدل گیا
سنن نسائی : ۴۹۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۹۴
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قال : بَيْنَمَا النَّاسُ بِقُبَاءَ فِي صَلَاةِ الصُّبْحِ ، جَاءَهُمْ آتٍ ، فَقَالَ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَدْ أُنْزِلَ عَلَيْهِ اللَّيْلَةَ ، وَقَدْ أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ الْكَعْبَةَ " . فَاسْتَقْبِلُوهَا وَكَانَتْ وُجُوهُهُمْ إِلَى الشَّامِ فَاسْتَدَارُوا إِلَى الْكَعْبَةِ .
عبداللہ بن عمر روایت:
لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے کہ اسی دوران ایک آنے والا آیا، اور کہنے لگا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات (وحی) نازل کی گئی ہے، اور آپ کو حکم ملا ہے کہ (نماز میں) کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم لوگ بھی اسی کی طرف رخ کر لو، (اس وقت) ان کے چہرے شام (بیت المقدس) کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے ۱؎۔
سنن نسائی حدیث ۴۹۴ کا خلاصہ
یہ حدیث تبدیلی قبلہ کا ایک نہایت واضح واقعہ بیان کرتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہم فرماتے ہیں کہ لوگ قباء میں صبح کی نماز پڑھ رہے تھے۔ اسی دوران ایک آنے والا آیا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آج رات وحی نازل ہوئی ہے، اور آپ کو حکم دیا گیا ہے کہ نماز میں کعبہ کی طرف رخ کریں، لہٰذا تم بھی اسی کی طرف رخ کر لو۔ اس وقت ان کے چہرے شام یعنی بیت المقدس کی طرف تھے، تو وہ لوگ کعبہ کی طرف گھوم گئے۔ اس روایت میں نماز کے اندر خبر پہنچنے اور رخ بدلنے کا ذکر ہے۔ مرکزی موضوع قبلہ کی تبدیلی ہے، اور حدیث میں اطاعت کا عملی انداز بھی نظر آتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- قباء میں لوگ فجر کی نماز کے دوران بیت المقدس کی طرف رخ کیے ہوئے تھے۔
- خبر ملنے پر انہوں نے کعبہ کی طرف رخ کر لیا۔
- قبلہ کی تبدیلی وحی اور نبوی حکم کے مطابق ہوئی۔
