سنن نسائی حدیث ۴۹۶ - نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے اوقات

نبی صلى الله عليه وسلم کی نماز کے اوقات اور فجر کی قراءت

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۹۶

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا سَيَّارُ بْنُ سَلَامَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَبِي ، يَسْأَلُ أَبَا بَرْزَةَ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قُلْتُ : أَنْتَ سَمِعْتَهُ ؟ قَالَ : كَمَا أَسْمَعُكَ السَّاعَةَ ، فَقَالَ : أَبِي يَسْأَلُ عَنْ صَلَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كَانَ " لَا يُبَالِي بَعْضَ تَأْخِيرِهَا يَعْنِي الْعِشَاءَ إِلَى نِصْفِ اللَّيْلِ ، وَلَا يُحِبُّ النَّوْمَ قَبْلَهَا وَلَا الْحَدِيثَ بَعْدَهَا " . قَالَ شُعْبَةُ : ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ ، قَالَ : كَانَ " يُصَلِّي الظُّهْرَ حِينَ تَزُولُ الشَّمْسُ ، وَالْعَصْرَ يَذْهَبُ الرَّجُلُ إِلَى أَقْصَى الْمَدِينَةِ وَالشَّمْسُ حَيَّةٌ ، وَالْمَغْرِبَ لَا أَدْرِي أَيَّ حِينٍ ذَكَرَ " ثُمَّ لَقِيتُهُ بَعْدُ فَسَأَلْتُهُ ، فَقَالَ : وَكَانَ " يُصَلِّي الصُّبْحَ فَيَنْصَرِفُ الرَّجُلُ فَيَنْظُرُ إِلَى وَجْهِ جَلِيسِهِ الَّذِي يَعْرِفُهُ فَيَعْرِفُهُ ، قَالَ : وَكَانَ يَقْرَأُ فِيهَا بِالسِّتِّينَ إِلَى الْمِائَةِ " .

سیار بن سلامہ روایت:

میں نے اپنے والد سے سنا وہ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، شعبہ کہتے ہیں کہ میں نے (سیار بن سلامہ سے) پوچھا: آپ نے اسے سنا ہے؟ انہوں نے کہا: (میں نے اسی طرح سنا ہے) جس طرح میں اس وقت آپ کو سنا رہا ہوں، میں نے اپنے والد سے سنا وہ (ابوبرزہ سے) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے متعلق سوال کر رہے تھے، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم آدھی رات تک عشاء کی تاخیر کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور اس سے پہلے سونے کو اور اس کے بعد گفتگو کرنے کو پسند نہیں کرتے تھے، شعبہ کہتے ہیں: اس کے بعد میں پھر سیار سے ملا اور میں نے ان سے پوچھا، تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اس وقت پڑھتے جس وقت سورج ڈھل جاتا، اور عصر اس وقت پڑھتے کہ آدمی (عصر پڑھ کر) مدینہ کے آخری کنارہ تک جاتا، اور سورج زندہ رہتا ۱؎ اور مجھے معلوم نہیں کہ انہوں نے مغرب کا کون سا وقت ذکر کیا، اس کے بعد میں پھر ان سے ملا تو میں نے ان سے پوچھا تو انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر پڑھتے تو آدمی پڑھ کر پلٹتا اور اپنے ساتھی کا جسے وہ پہچانتا ہو چہرہ دیکھتا تو پہچان لیتا، انہوں نے کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم فجر میں ساٹھ سے سو آیتوں کے درمیان پڑھتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۴۹۶ کا خلاصہ

یہ حدیث رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے اوقات سے متعلق ایک تفصیلی بیان ہے۔ ابوبرزہ رضی اللہ عنہ سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں پوچھا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ آپ عشاء کو آدھی رات تک مؤخر کرنے کی پرواہ نہیں کرتے تھے، اور عشاء سے پہلے سونا اور اس کے بعد گفتگو کرنا پسند نہیں کرتے تھے۔ پھر بیان ہوا کہ آپ ظہر اس وقت پڑھتے جب سورج ڈھل جاتا، عصر ایسے وقت پڑھتے کہ آدمی مدینہ کے آخری کنارے تک جاتا اور سورج ابھی روشن ہوتا۔ فجر کے بارے میں بتایا کہ نماز کے بعد آدمی اپنے پہچانے ہوئے ساتھی کا چہرہ پہچان لیتا تھا، اور آپ فجر میں ساٹھ سے سو آیات کے درمیان پڑھتے تھے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم عشاء سے پہلے سونے اور عشاء کے بعد گفتگو کو پسند نہیں کرتے تھے۔
  • ظہر سورج ڈھلنے کے بعد ادا کی جاتی تھی۔
  • فجر میں ساٹھ سے سو آیات کے درمیان قراءت کا ذکر آیا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں