سنن نسائی حدیث ۴۹۷ - سورج ڈھلنے پر ظہر
سورج ڈھلنے کے بعد ظہر کی نماز
سنن نسائی : ۴۹۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۴۹۷
أَخْبَرَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَرْبٍ ، عَنْ الزُّبَيْدِيِّ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، قال : أَخْبَرَنِي أَنَسٌ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " خَرَجَ حِينَ زَاغَتِ الشَّمْسُ فَصَلَّى بِهِمْ صَلَاةَ الظُّهْرِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور آپ نے انہیں ظہر پڑھائی۔
سنن نسائی حدیث ۴۹۷ کا خلاصہ
اس مختصر حدیث میں ظہر کی نماز کے وقت کا ذکر ہے۔ انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سورج ڈھلنے کے بعد نکلے اور لوگوں کو ظہر کی نماز پڑھائی۔ روایت کے الفاظ کم ہیں، مگر موضوع واضح ہے: ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد ادا کی گئی۔ اس حدیث کو نماز کے اوقات، ظہر کا وقت، اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے طریقے کے ضمن میں دیکھا جاتا ہے۔ یہاں نہ سفر کا ذکر ہے، نہ موسم کا، نہ کسی اور شرط کا۔ اس لیے اس کی وضاحت بھی اسی حد تک ہونی چاہیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے زوال کے بعد ظہر پڑھائی۔ اس سے نماز کے وقت کی پابندی کا سادہ سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ظہر کی نماز سورج ڈھلنے کے بعد ادا کی گئی۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے لوگوں کو ظہر پڑھائی، جیسا کہ روایت میں ہے۔
- نماز کے وقت کو سمجھنے میں حدیث کے صاف الفاظ کو سامنے رکھنا چاہیے۔
