سنن نسائی حدیث ۴۹۹ - کوچ سے پہلے ظہر

سفر میں ظہر پڑھ کر کوچ کرنے کا عمل

سنن نسائیحدیث نمبر ۴۹۹

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ شُعْبَةَ ، قال : حَدَّثَنِي حَمْزَةُ الْعَائِذِيُّ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، يَقُولُ : كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا نَزَلَ مَنْزِلًا لَمْ يَرْتَحِلْ مِنْهُ حَتَّى يُصَلِّيَ الظُّهْرَ " ، فَقَالَ رَجُلٌ : وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ ؟ قَالَ : وَإِنْ كَانَتْ بِنِصْفِ النَّهَارِ .

انس بن مالک روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم (ظہر سے پہلے) جب کسی جگہ اترتے ۱؎ تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے کوچ نہیں کرتے، اس پر ایک آدمی نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی؟ انہوں نے کہا: اگرچہ ٹھیک دوپہر ہوتی ۲؎۔

سنن نسائی حدیث ۴۹۹ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک سفری عمل بیان کرتے ہیں۔ وہ فرماتے ہیں کہ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم کسی جگہ اترتے تو جب تک ظہر نہ پڑھ لیتے وہاں سے روانہ نہیں ہوتے تھے۔ ایک آدمی نے پوچھا کہ اگر ٹھیک دوپہر ہو تب بھی؟ انس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ ہاں، اگر ٹھیک دوپہر ہوتی تب بھی۔ اس روایت کا مرکزی موضوع سفر میں ظہر کی نماز اور کوچ سے پہلے نماز ادا کرنا ہے۔ حدیث میں یہ نہیں بتایا گیا کہ ہر حالت کا الگ حکم کیا ہے؛ صرف یہ عمل بیان ہوا ہے کہ اترنے کے بعد ظہر ادا کر کے روانگی ہوتی تھی۔ اس لیے توضیح بھی اسی حد میں رہنی چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم جب کسی جگہ اترتے تو ظہر پڑھنے سے پہلے کوچ نہ کرتے۔
  • انس رضی اللہ عنہ نے دوپہر کے وقت کے بارے میں بھی یہی جواب دیا۔
  • سفر میں نماز کے وقت کا اہتمام روایت سے ظاہر ہوتا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں