سنن نسائی حدیث ۵۰۰ - گرمی میں ٹھنڈی، سردی میں جلدی

گرمی اور سردی میں نماز کے وقت کا نبوی عمل

سنن نسائیحدیث نمبر ۵۰۰

أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ مَوْلَى بَنِي هَاشِمٍ ، قال : حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ ، قال : سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ ، قال : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ عَجَّلَ " .

انس بن مالک روایت:

جب گرمی ہوتی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز ٹھنڈی کر کے پڑھتے اور جب جاڑا ہوتا تو جلدی پڑھتے۔

سنن نسائی حدیث ۵۰۰ کا خلاصہ

اس حدیث میں انس بن مالک رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان کرتے ہیں کہ جب گرمی ہوتی تو آپ نماز ٹھنڈی کر کے پڑھتے، اور جب سردی ہوتی تو جلدی پڑھتے۔ روایت کے الفاظ عام ہیں، مگر اسی سلسلے کی احادیث میں نماز کو گرمی میں ٹھنڈا کرنے کا ذکر آتا ہے۔ اس حدیث کا مرکزی موضوع نماز کے وقت میں موسم کا لحاظ ہے۔ یہاں زیادہ تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات کو حدیث کے الفاظ تک محدود رکھنا بہتر ہے۔ اس روایت سے یہ سمجھ آتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے گرمی اور سردی کی حالت میں نماز کے وقت کے بارے میں ایک عملی طریقہ اپنایا۔ عام فہم الفاظ میں، گرمی میں کچھ تاخیر اور سردی میں جلدی کا ذکر آیا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • گرمی کے وقت نبی صلى الله عليه وسلم نماز ٹھنڈی کر کے پڑھتے تھے۔
  • سردی کے وقت آپ صلى الله عليه وسلم نماز جلدی پڑھتے تھے۔
  • روایت میں موسم کے لحاظ سے نماز کے وقت کا عملی فرق بیان ہوا ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں