سنن نسائی حدیث ۵۰۱ - سخت گرمی میں نماز ٹھنڈی کرو
سخت گرمی میں نماز ٹھنڈی کر کے پڑھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۵۰۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۰۱
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا اللَّيْثُ ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ ابْنِ الْمُسَيَّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " إِذَا اشْتَدَّ الْحَرُّ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ فَإِنَّ شِدَّةَ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، اس لیے کہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۵۰۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان نقل کرتے ہیں کہ جب گرمی سخت ہو تو نماز ٹھنڈی کر کے پڑھو، کیونکہ گرمی کی شدت جہنم کے جوش مارنے کی وجہ سے ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع سخت گرمی میں نماز، خاص طور پر نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کا بیان ہے۔ حدیث کے الفاظ میں علت بھی بیان ہوئی ہے کہ شدید گرمی جہنم کے جوش سے ہے۔ یہاں یہ بات بہت احتیاط سے سمجھنی چاہیے کہ روایت سخت گرمی کی حالت کا ذکر کر رہی ہے۔ اس میں نماز کے وقت کو بالکل چھوڑنے یا بے پروا ہونے کی بات نہیں، بلکہ گرمی سخت ہو تو نماز کو ٹھنڈا کر کے پڑھنے کا نبوی حکم بیان ہوا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سخت گرمی میں نماز ٹھنڈی کر کے پڑھنے کا حکم حدیث میں آیا ہے۔
- شدید گرمی کے بارے میں حدیث میں جہنم کے جوش کا ذکر ہے۔
- نماز کے وقت میں آسانی کا پہلو اسی حد تک بیان کیا جائے جو روایت میں آیا ہے۔
