سنن نسائی حدیث ۵۶۵ - سورج نکلنے اور ڈوبنے کے ساتھ نماز کی ممانعت
سورج نکلتے یا ڈوبتے وقت نماز سے بچیں
سنن نسائی : ۵۶۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۶۵
أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ مَسْعُودٍ ، أَنْبَأَنَا خَالِدٌ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى أَنْ يُصَلَّى مَعَ طُلُوعِ الشَّمْسِ أَوْ غُرُوبِهَا " .
عبداللہ بن عمر روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے نکلنے یا اس کے ڈوبنے کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۵۶۵ کا خلاصہ
یہ حدیث بھی طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت نماز کے بارے میں واضح ہدایت دیتی ہے۔ عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سورج کے نکلنے یا اس کے ڈوبنے کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع فرمایا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ نماز کو ایسے لمحے سے نہ جوڑا جائے جب سورج طلوع یا غروب ہو رہا ہو۔ عام آدمی کے لیے آسان بات یہ ہے کہ جب سورج نکل رہا ہو تو تھوڑا انتظار کرے، اور جب سورج ڈوب رہا ہو تو اس کے مکمل ڈوبنے کا انتظار کرے۔ ممنوع اوقات نماز کا یہ علم خاص طور پر نفل پڑھنے والوں کے لیے ضروری ہے۔ حدیث ہمیں عبادت میں جلد بازی کے بجائے سنت کے مطابق وقت کا خیال رکھنے کی تربیت دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- طلوع آفتاب کے ساتھ نماز شروع نہیں کرنی چاہیے۔
- غروب آفتاب کے ساتھ نماز پڑھنے سے منع کیا گیا ہے۔
- نماز کے لیے وقت کی حدوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
- یہ روایت نفل نماز کے وقت میں احتیاط سکھاتی ہے۔
