سنن نسائی حدیث ۵۶۶ - تین اوقات میں نماز اور دفن سے ممانعت
تین ممنوع اوقات: نماز اور تدفین کا حکم
سنن نسائی : ۵۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۶۶
أَخْبَرَنَا حُمَيْدُ بْنُ مَسْعَدَةَ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ وَهُوَ ابْنُ حَبِيبٍ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : سَمِعْتُ عُقْبَةَ بْنَ عَامِرٍ ، يَقُولُ : " ثَلَاثُ سَاعَاتٍ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَنْهَانَا أَنْ نُصَلِّيَ فِيهِنَّ أَوْ نَقْبُرَ فِيهِنَّ مَوْتَانَا : حِينَ تَطْلُعُ الشَّمْسُ بَازِغَةً حَتَّى تَرْتَفِعَ ، وَحِينَ يَقُومُ قَائِمُ الظَّهِيرَةِ حَتَّى تَمِيلَ ، وَحِينَ تَضَيَّفُ لِلْغُرُوبِ حَتَّى تَغْرُبَ " .
علی روایت:
میں نے عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ کو کہتے سنا کہ تین اوقات ہیں جن میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھنے، یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے: ایک جس وقت سورج نکل رہا ہو، یہاں تک کہ بلند ہو جائے، دوسرے جس وقت ٹھیک دوپہر ہو یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے، تیسرے جس وقت سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو یہاں تک کہ ڈوب جائے۔
سنن نسائی حدیث ۵۶۶ کا خلاصہ
یہ روایت نماز کے ممنوع اوقات کو تفصیل سے بیان کرتی ہے۔ عقبہ بن عامر رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تین اوقات میں نماز پڑھنے یا اپنے مردوں کو قبر میں دفنانے سے منع فرماتے تھے۔ پہلا وقت وہ ہے جب سورج نکل رہا ہو، یہاں تک کہ وہ بلند ہو جائے۔ دوسرا وقت ٹھیک دوپہر کا ہے، یہاں تک کہ سورج ڈھل جائے۔ تیسرا وقت وہ ہے جب سورج ڈوبنے کے لیے مائل ہو، یہاں تک کہ ڈوب جائے۔ اس حدیث میں صرف نفل نماز ہی نہیں بلکہ تدفین کا بھی ذکر ہے، اس لیے متن کے مطابق بات ان تین خاص گھڑیوں تک محدود رہنی چاہیے۔ یہ حدیث روزمرہ نماز کے اوقات، طلوع آفتاب، زوال اور غروب آفتاب کے بارے میں صاف رہنمائی دیتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تین اوقات ایسے ہیں جن میں نماز سے روکا گیا ہے۔
- اسی روایت میں ان اوقات میں تدفین سے بھی منع کیا گیا ہے۔
- طلوع، زوال اور غروب کے وقت خاص احتیاط چاہیے۔
- عبادت اور دینی کام بھی بتائے ہوئے وقت کے مطابق ہونے چاہییں۔
