سنن نسائی حدیث ۵۸ - ٹھہرے پانی میں غسل سے پہلے احتیاط
ٹھہرے پانی میں پیشاب اور پھر غسل کی ممانعت
سنن نسائی : ۵۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۵۸
أَخْبَرَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَتِيقٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَبُولَنَّ أَحَدُكُمْ فِي الْمَاءِ الدَّائِمِ ، ثُمَّ يَغْتَسِلُ مِنْهُ " . قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ : كَانَ يَعْقُوبُ لَا يُحَدِّثُ بِهَذَا الْحَدِيثِ إِلَّا بِدِينَارٍ .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے“۔
سنن نسائی حدیث ۵۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی شخص ہرگز ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہ کرے، پھر اسی سے غسل کرے۔ پچھلی روایت میں وضو کا ذکر تھا، یہاں غسل کا ذکر ہے۔ دونوں باتوں کا اصل مقصد پانی کی پاکیزگی کو محفوظ رکھنا ہے۔ ٹھہرا ہوا پانی اگر گندا کیا جائے تو وہ خود انسان کے استعمال کے لیے بھی مسئلہ بن سکتا ہے اور دوسروں کے لیے بھی۔ حدیث ہمیں بتاتی ہے کہ طہارت کے لیے استعمال ہونے والے پانی کا ادب کیا جائے۔ اسلام صفائی کو صرف اپنے جسم تک محدود نہیں رکھتا، بلکہ پانی کے ذریعہ کو بھی گندا کرنے سے روکتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ٹھہرے ہوئے پانی میں پیشاب نہیں کرنا چاہیے۔
- غسل کے لیے استعمال ہونے والے پانی کی پاکی کا خیال رکھا جائے۔
- پانی کو گندا کرنا اپنے اور دوسروں کے لیے نقصان کا سبب بن سکتا ہے۔
- طہارت میں پانی کے منبع کی حفاظت بھی شامل ہے۔
