سنن نسائی حدیث ۷۱۸ - مسجد میں گمشدہ چیز ڈھونڈنا

مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان نہ کرنا

سنن نسائیحدیث نمبر ۷۱۸

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ وَهْبٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي عَبْدِ الرَّحِيمِ ، قال : حَدَّثَنِي زَيْدُ بْنُ أَبِي أُنَيْسَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، قال : جَاءَ رَجُلٌ يَنْشُدُ ضَالَّةً فِي الْمَسْجِدِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا وَجَدْتَ " .

جابر روایت:

ایک آدمی آ کر مسجد میں ایک گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ کرے تو نہ پائے“۔

سنن نسائی حدیث ۷۱۸ کا خلاصہ

اس حدیث میں جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی مسجد میں آیا اور اپنی گمشدہ چیز ڈھونڈنے لگا۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے فرمایا کہ اللہ کرے تو نہ پائے۔ یہ جملہ مسجد کے ادب کو بہت واضح انداز میں سمجھاتا ہے۔ مسجد کا اصل مقصد نماز، ذکر، تلاوت اور دینی کام ہے، اسے گمشدہ چیزوں کے اعلان یا دنیاوی شور کے لیے استعمال نہیں کرنا چاہیے۔ روایت میں گمشدہ چیز کی تفصیل نہیں دی گئی، اس لیے بات اسی حد تک رہے گی کہ مسجد میں اس طرح تلاش یا اعلان مناسب نہیں۔ حدیث بتاتی ہے کہ مسجد کے ماحول کو عبادت کے لیے رکھا جائے اور وہاں ایسی آوازیں یا کام نہ کیے جائیں جو مسجد کے مقصد سے ہٹاتے ہوں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • مسجد میں گمشدہ چیز کا اعلان کرنا پسندیدہ نہیں۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ایسے شخص کو سخت جواب دیا۔
  • مسجد کو دنیاوی اعلانات کی جگہ نہیں بنانا چاہیے۔
  • مسجد کے ماحول کو عبادت کے لیے محفوظ رکھا جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں