سنن نسائی حدیث ۷۶۶ - قمیص میں نماز اور تکمہ لگانا
صرف قمیص میں نماز پڑھنے کا طریقہ
سنن نسائی : ۷۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۶۶
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا الْعَطَّافُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ ، قال : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي لَأَكُونُ فِي الصَّيْدِ وَلَيْسَ عَلَيَّ إِلَّا الْقَمِيصُ ، أَفَأُصَلِّي فِيهِ ؟ قَالَ : " وَزُرَّهُ عَلَيْكَ وَلَوْ بِشَوْكَةٍ " .
سلمہ بن الاکوع روایت:
میں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! میں شکار پر جاتا ہوں اور میرے جسم پر سوائے قمیص کے کچھ نہیں ہوتا، تو کیا میں اس میں نماز پڑھ لوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”(ہاں پڑھ لو) اور اس میں ایک تکمہ لگا لو گرچہ کانٹے ہی کا ہو“۔
سنن نسائی حدیث ۷۶۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں سلمہ بن الاکوع رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا کہ وہ شکار پر جاتے ہیں اور جسم پر صرف قمیص ہوتی ہے، تو کیا اس میں نماز پڑھ سکتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ ہاں، اور اسے اپنے اوپر بند کر لو، چاہے کانٹے ہی سے بند کرنا پڑے۔ اس حدیث کا اصل موضوع نماز کا لباس اور میسر کپڑے کو مناسب بنانا ہے۔ یہاں اجازت کے ساتھ ایک عملی ہدایت بھی دی گئی کہ قمیص کھلی نہ رہے بلکہ اسے بند کیا جائے۔ اس سے نماز میں ستر، احتیاط، اور حالات کے مطابق آسانی کا سبق ملتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صرف قمیص ہو تو بھی نماز کا سوال نبی صلى الله عليه وسلم سے کیا گیا۔
- نبی صلى الله عليه وسلم نے قمیص بند کرنے کی ہدایت دی۔
- کپڑا میسر ہو تو اسے نماز کے لیے مناسب بنایا جائے۔
- حدیث میں ضرورت کی حالت میں آسانی بھی ہے اور احتیاط بھی۔
