سنن نسائی حدیث ۷۶۷ - تہبند باندھ کر نماز
تہبند میں نماز اور جماعت کی احتیاط
سنن نسائی : ۷۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۷۶۷
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ سُفْيَانَ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو حَازِمٍ ، عَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ ، قال : كَانَ رِجَالٌ يُصَلُّونَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَاقِدِينَ أُزْرَهُمْ كَهَيْئَةِ الصِّبْيَانِ ، فَقِيلَ لِلنِّسَاءِ : " لَا تَرْفَعْنَ رُءُوسَكُنَّ حَتَّى يَسْتَوِيَ الرِّجَالُ جُلُوسًا " .
سہل بن سعد روایت:
کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھے نماز پڑھ رہے تھے، تو عورتوں سے (جو مردوں کے پیچھے پڑھ رہی تھیں) کہا گیا کہ ”جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں تم اپنے سروں کو نہ اٹھاؤ“۔
سنن نسائی حدیث ۷۶۷ کا خلاصہ
اس حدیث میں سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ کچھ لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھ رہے تھے اور انہوں نے بچوں کی طرح اپنا تہبند باندھا ہوا تھا۔ عورتیں مردوں کے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اس لیے ان سے کہا گیا کہ جب تک مرد سیدھے ہو کر بیٹھ نہ جائیں، تم اپنے سر نہ اٹھانا۔ اس روایت کا اصل تعلق نماز میں ستر، جماعت کی ترتیب، اور احتیاط سے ہے۔ یہاں مردوں کے لباس کی ایک حالت بیان ہوئی اور اسی وجہ سے عورتوں کو ایک خاص ہدایت دی گئی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں لباس اور صفوں کے آداب کا خیال رکھا جاتا تھا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- نماز میں لباس کی حالت کا خیال رکھنا چاہیے۔
- جماعت میں مردوں اور عورتوں کی صفوں کے آداب بیان ہوئے۔
- عورتوں کو سر اٹھانے میں احتیاط کا حکم دیا گیا۔
- حدیث میں ایک خاص حالت کے مطابق عملی ہدایت موجود ہے۔
