سنن نسائی حدیث ۸۰۳ - غیر وقت میں نفلی جماعت

غیر وقت میں نفلی جماعت کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۰۳

أَخْبَرَنَا سُوَيْدُ بْنُ نَصْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : دَخَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَا هُوَ إِلَّا أَنَا وَأُمِّي وَالْيَتِيمُ وَأُمُّ حِرَامٍ خَالَتِي فَقَالَ : " قُومُوا فَلِأُصَلِّيَ بِكُمْ " قَالَ : " فِي غَيْرِ وَقْتِ صَلَاةٍ " قَالَ : فَصَلَّى بِنَا .

انس روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے، اور اس وقت وہاں صرف میں، میری ماں، ایک یتیم، اور میری خالہ ام حرام تھیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اٹھو تاکہ میں تمہیں نماز پڑھاؤں“، (یہ کسی نماز کا وقت نہ تھا) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی۔

سنن نسائی حدیث ۸۰۳ کا خلاصہ

اس حدیث کا مرکزی موضوع غیر وقت میں نفلی جماعت ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بتاتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے گھر تشریف لائے۔ وہاں حضرت انس، ان کی والدہ، ایک یتیم اور ان کی خالہ ام حرام موجود تھیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اٹھو، میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ نے خاص طور پر بتایا کہ یہ کسی فرض نماز کا وقت نہیں تھا، پھر بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں نماز پڑھائی۔ اس سے بات صاف ہوتی ہے کہ یہ واقعہ فرض نماز کی عام جماعت نہیں بلکہ گھر والوں کے ساتھ نماز پڑھانے کا واقعہ تھا۔ حدیث میں اصل بات نماز کی رغبت، گھر میں جماعت، اور اہل خانہ کو عبادت میں شامل کرنے کی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • فرض وقت کے علاوہ بھی نماز کی ترغیب دی جا سکتی ہے۔
  • گھر والوں کو نماز میں شامل کرنا نیک عمل ہے۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کم افراد کے ساتھ بھی نماز پڑھائی۔
  • حدیث میں موجود الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ فرض نماز کا وقت نہیں تھا۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں