سنن نسائی حدیث ۸۰۴ - ایک مرد اور عورتوں کی صف
ایک مرد اور عورتوں کی صف بندی
سنن نسائی : ۸۰۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۰۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قال : سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مُخْتَارٍ يُحَدِّثُ ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ أَنَسٍ أَنَّهُ كَانَ هُوَ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأُمُّهُ وَخَالَتُهُ " فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَجَعَلَ أَنَسًا عَنْ يَمِينِهِ وَأُمَّهُ وَخَالَتَهُ خَلْفَهُمَا " .
انس روایت:
وہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تھے، اور ان کی ماں اور ان کی خالہ تھیں، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی، آپ نے انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، اور ان کی ماں اور خالہ دونوں کو اپنے اور انس رضی اللہ عنہ کے پیچھے کھڑا کیا۔
سنن نسائی حدیث ۸۰۴ کا خلاصہ
یہ روایت نماز میں مقتدی کی جگہ کے بارے میں صاف رہنمائی دیتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے، اور ان کی والدہ اور خالہ بھی موجود تھیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی تو حضرت انس رضی اللہ عنہ کو اپنی دائیں جانب کھڑا کیا، جبکہ ان کی والدہ اور خالہ کو اپنے اور حضرت انس کے پیچھے کھڑا کیا۔ اس حدیث میں نماز میں صف بندی کا عملی طریقہ سامنے آتا ہے: جب ایک مرد مقتدی ہو تو وہ امام کے دائیں طرف کھڑا ہو، اور عورتیں پیچھے صف بنائیں۔ حدیث کا انداز بہت سادہ ہے، مگر نماز کے ادب کو واضح کر دیتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک مرد مقتدی امام کے دائیں جانب کھڑا ہو سکتا ہے۔
- عورتیں مردوں کے پیچھے صف بنائیں۔
- گھر میں کم افراد کے ساتھ بھی جماعت ہو سکتی ہے۔
- نماز میں جگہ کا درست ہونا صف بندی کا حصہ ہے۔
