سنن نسائی حدیث ۸۰۵ - امام کے ساتھ ایک مقتدی
امام کے ساتھ ایک مقتدی کی جگہ
سنن نسائی : ۸۰۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۰۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قال : حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، قال : قال ابْنُ جُرَيْجٍ : أَخْبَرَنِي زِيَادٌ ، أَنَّ قَزَعَةَ مَوْلًى لِعَبْدِ قَيْسٍ أَخْبَرَهُ ، أَنَّهُ سَمِعَ عِكْرِمَةَ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ : " صَلَّيْتُ إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَائِشَةُ خَلْفَنَا تُصَلِّي مَعَنَا وَأَنَا إِلَى جَنْبِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُصَلِّي مَعَهُ " .
عبداللہ بن عباس روایت:
میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ہمارے ساتھ ہمارے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں، اور میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں آپ کے ساتھ نماز پڑھ رہا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۸۰۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں نماز کے اندر ایک مرد مقتدی اور عورت مقتدی کی جگہ کا بیان ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بغل میں نماز پڑھی، جبکہ ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا ان دونوں کے پیچھے نماز پڑھ رہی تھیں۔ روایت میں بار بار یہ بات آتی ہے کہ ابن عباس رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بغل میں نماز پڑھ رہے تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک مرد مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے، جبکہ عورت پیچھے کھڑی ہوتی ہے۔ حدیث کا اصل موضوع نماز میں صف بندی، امام کے قریب مقتدی کی جگہ، اور عورت کے پیچھے کھڑے ہونے کا طریقہ ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ایک مرد مقتدی امام کے ساتھ کھڑا ہو سکتا ہے۔
- عورت مقتدی مردوں کے پیچھے نماز پڑھتی ہے۔
- نماز میں صف بندی کا خیال رکھا گیا ہے۔
- حدیث میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کا عملی واقعہ بیان ہوا ہے۔
