سنن نسائی حدیث ۸۱۶ - صف کے خلا بند کرو
صفوں کے درمیان خلا نہ چھوڑو
سنن نسائی : ۸۱۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۱۶
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ الْمُخَرِّمِيُّ ، قال : حَدَّثَنَا أَبُو هِشَامٍ ، قال : حَدَّثَنَا أَبَانُ ، قال حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، قال : حَدَّثَنَا أَنَسٌ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قال : " رَاصُّوا صُفُوفَكُمْ وَقَارِبُوا بَيْنَهَا وَحَاذُوا بِالْأَعْنَاقِ فَوَالَّذِي نَفْسُ مُحَمَّدٍ بِيَدِهِ إِنِّي لَأَرَى الشَّيَاطِينَ تَدْخُلُ مِنْ خَلَلِ الصَّفِّ كَأَنَّهَا الْحَذَفُ " .
قتادہ روایت:
ہم سے انس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی صفیں سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کر لو، اور انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو کیونکہ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں محمد کی جان ہے، میں شیاطین کو صف کے درمیان گھستے ہوئے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں“۔
سنن نسائی حدیث ۸۱۶ کا خلاصہ
یہ حدیث نماز کی صفوں میں خلا چھوڑنے سے بچنے کی تاکید کرتی ہے۔ حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اپنی صفوں کو سیسہ پلائی دیوار کی طرح درست کرو، انہیں ایک دوسرے کے نزدیک رکھو، اور گردنیں ایک دوسرے کے بالمقابل رکھو۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قسم کے ساتھ فرمایا کہ میں شیاطین کو صف کے درمیان داخل ہوتے دیکھتا ہوں جیسے وہ بکری کے کالے بچے ہوں۔ اس روایت میں صف بندی کی تین عملی باتیں ہیں: صف ملانا، صفوں کو قریب رکھنا، اور خالی جگہ نہ چھوڑنا۔ حدیث کا اصل پیغام یہ ہے کہ نماز کی جماعت میں بے ترتیبی اور خلا کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- صفوں کو ملا کر کھڑا ہونا چاہیے۔
- صفوں کے درمیان زیادہ فاصلہ نہ رکھا جائے۔
- گردنوں کو ایک دوسرے کے مقابل رکھنے کا ذکر آیا ہے۔
- صف کے خلا کے بارے میں حدیث میں سخت تنبیہ موجود ہے۔
