سنن نسائی حدیث ۸۱۷ - فرشتوں جیسی صف بندی

فرشتوں جیسی صف بندی کیسے ہو؟

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۱۷

أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، قال : حَدَّثَنَا الْفُضَيْلُ بْنُ عِيَاضٍ ، عَنِ الْأَعْمَشِ عَنِ الْمُسَيَّبِ بْنِ رَافِعٍ ، عَنْ تَمِيمِ بْنِ طَرَفَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ ، قال : خَرَجَ إِلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " أَلَا تَصُفُّونَ كَمَا تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ " قَالُوا وَكَيْفَ تَصُفُّ الْمَلَائِكَةُ عِنْدَ رَبِّهِمْ . قَالَ : " يُتِمُّونَ الصَّفَّ الْأَوَّلَ ، ثُمَّ يَتَرَاصُّونَ فِي الصَّفِّ " .

جابر بن سمرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس آئے اور فرمایا: ”کیا تم لوگ صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس باندھتے ہیں“، لوگوں نے پوچھا: فرشتے اپنے رب کے پاس کیسے صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر وہ سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح صف میں مل کر کھڑے ہوتے ہیں“۔

سنن نسائی حدیث ۸۱۷ کا خلاصہ

حضرت جابر بن سمرہ رضی اللہ عنہ کی یہ روایت نماز کی صف بندی کو خوبصورت انداز میں سمجھاتی ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کے پاس آئے اور فرمایا کہ کیا تم اس طرح صف نہیں باندھو گے جس طرح فرشتے اپنے رب کے پاس صف باندھتے ہیں؟ صحابہ نے پوچھا کہ فرشتے کیسے صف باندھتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ پہلے اگلی صف پوری کرتے ہیں، پھر صف میں سیسہ پلائی ہوئی دیوار کی طرح مل کر کھڑے ہوتے ہیں۔ اس حدیث سے دو واضح باتیں سامنے آتی ہیں: اگلی صف کو پہلے مکمل کرنا، اور صف میں خلل کے بغیر مل کر کھڑا ہونا۔ نماز کی جماعت میں ترتیب اسی طرح بہتر بنتی ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • اگلی صف پہلے مکمل کی جائے۔
  • صف میں مل کر کھڑے ہونے کی ترغیب دی گئی۔
  • نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرشتوں کی صف بندی کو مثال بنایا۔
  • جماعت کی نماز میں نظم اور ترتیب مطلوب ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں