سنن نسائی حدیث ۸۴۶ - صفیں سیدھی اور مل کر کھڑی کرنا
صفیں سیدھی کرنے کی حدیث: نماز کا نظم
سنن نسائی : ۸۴۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۴۶
أَنْبَأَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، قال : أَنْبَأَنَا إِسْمَاعِيلُ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : أَقْبَلَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِوَجْهِهِ حِينَ قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ قَبْلَ أَنْ يُكَبِّرَ فَقَالَ : " أَقِيمُوا صُفُوفَكُمْ وَتَرَاصُّوا فَإِنِّي أَرَاكُمْ مِنْ وَرَاءِ ظَهْرِي " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جس وقت نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر (تکبیر تحریمہ) کہنے سے پہلے آپ ہماری طرف متوجہ ہوئے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی صفوں کو درست کر لیا کرو، اور باہم مل کر کھڑے ہوا کرو، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں“۔
سنن نسائی حدیث ۸۴۶ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کے لیے کھڑے ہوئے تو تکبیر کہنے سے پہلے لوگوں کی طرف رخ کیا اور فرمایا: اپنی صفیں درست کرو اور مل کر کھڑے ہو جاؤ، کیونکہ میں تمہیں اپنی پیٹھ کے پیچھے سے بھی دیکھتا ہوں۔ یہ روایت "صفیں سیدھی کرنے" اور "صفوں کو ملانے" کی اہمیت بتاتی ہے۔ نماز صرف انفرادی عبادت نہیں، جماعت میں نظم بھی مطلوب ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر سے پہلے صفوں کی اصلاح فرمائی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جماعت شروع کرنے سے پہلے صف کا درست ہونا اہم ہے۔ حدیث کا پیغام آسان ہے: صف میں خلل، بے ترتیبی اور فاصلہ نماز کے اجتماعی حسن کو متاثر کرتے ہیں۔ اس لیے نمازیوں کو امام کی ہدایت سن کر صف درست کرنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- تکبیر سے پہلے صفوں کو درست کرنا اہم ہے۔
- نمازیوں کو صف میں مل کر کھڑا ہونا چاہیے۔
- امام صف کی اصلاح کر سکتا ہے۔
- نماز باجماعت میں نظم اور ترتیب کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔
