سنن نسائی حدیث ۸۴۹ - جماعت چھوڑنے پر سخت تنبیہ
جماعت چھوڑنے پر سخت تنبیہ اور عشاء کی اہمیت
سنن نسائی : ۸۴۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۴۹
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنِ الْأَعْرَجِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ، ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلَاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ، ثُمَّ آمُرَ رَجُلًا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ، ثُمَّ أُخَالِفَ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمْ أَنَّهُ يَجِدُ عَظْمًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میں نے ارادہ کیا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، تو وہ جمع کی جائے، پھر میں حکم دوں کہ نماز کے لیے اذان کہی جائے، پھر ایک شخص کو حکم دوں کہ وہ لوگوں کی امامت کرے، پھر میں لوگوں کے پاس جاؤں اور ان کے سمیت ان کے گھروں میں آگ لگا دوں، قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے، اگر ان میں سے کوئی یہ جانتا کہ اسے (مسجد میں) ایک موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء کی نماز میں ضرور حاضر ہوتا“۔
سنن نسائی حدیث ۸۴۹ کا خلاصہ
اس حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت سخت انداز میں جماعت سے پیچھے رہنے والوں پر ناراضی ظاہر فرمائی۔ آپ نے فرمایا کہ میرا ارادہ ہوا کہ لکڑیاں جمع کرنے کا حکم دوں، نماز کے لیے اذان ہو، ایک شخص امامت کرے، پھر میں ان لوگوں کے پاس جاؤں جو جماعت میں نہیں آئے اور ان کے گھروں کو آگ لگا دوں۔ آخر میں فرمایا کہ اگر کسی کو معلوم ہو کہ اسے موٹی ہڈی یا دو اچھے کھر ملیں گے تو وہ عشاء میں ضرور حاضر ہو گا۔ یہ حدیث "نماز باجماعت"، "عشاء کی جماعت" اور "جماعت چھوڑنے کی وعید" کے بارے میں بہت واضح ہے۔ متن میں خاص طور پر ان لوگوں کی سستی پر تنبیہ ہے جو دنیاوی فائدے کے لیے تو آ جاتے مگر نماز کے لیے نہیں آتے۔ اس لیے حدیث دل کو جھنجھوڑتی ہے کہ جماعت کو معمولی نہ سمجھا جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- جماعت سے بلا عذر پیچھے رہنا سخت ناپسندیدہ عمل ہے۔
- عشاء کی جماعت میں سستی سے بچنے کی خاص تاکید ملتی ہے۔
- دنیاوی فائدے کے مقابلے میں نماز کی قدر زیادہ ہونی چاہیے۔
- نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جماعت چھوڑنے پر سخت ناراضی ظاہر فرمائی۔
