سنن نسائی حدیث ۸۵۳ - حاجت ہو تو پہلے فارغ ہونا
نماز سے پہلے حاجت ہو تو کیا کرنا چاہیے؟
سنن نسائی : ۸۵۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۵۳
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنْ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ أَرْقَمَ كَانَ يَؤُمُّ أَصْحَابَهُ فَحَضَرَتِ الصَّلَاةُ يَوْمًا فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ ، ثُمَّ رَجَعَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمُ الْغَائِطَ فَلْيَبْدَأْ بِهِ قَبْلَ الصَّلَاةِ " .
عروہ روایت:
عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے، ایک دن نماز کا وقت آیا، تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آئے اور کہنے لگے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: ”جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے، تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے“۔
سنن نسائی حدیث ۸۵۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں عروہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ اپنے لوگوں کی امامت کرتے تھے۔ ایک دن نماز کا وقت آیا تو وہ اپنی حاجت کے لیے چلے گئے، پھر واپس آ کر فرمایا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: جب تم میں سے کوئی پاخانہ کی حاجت محسوس کرے تو نماز سے پہلے اس سے فارغ ہو لے۔ یہ حدیث "نماز میں خشوع" اور "حاجت کے ساتھ نماز" کے مسئلے کو آسان انداز میں سمجھاتی ہے۔ نماز میں دل اور جسم دونوں کی توجہ مطلوب ہے۔ اگر انسان شدید حاجت روک کر نماز میں کھڑا ہو تو توجہ بٹ سکتی ہے۔ اس روایت میں امام خود عمل کر کے دکھاتے ہیں کہ نماز کی جلدی میں ایسی حاجت کو نظر انداز نہ کیا جائے، بلکہ پہلے ضرورت پوری کر کے اطمینان سے نماز پڑھی جائے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- شدید حاجت ہو تو نماز سے پہلے فارغ ہو لینا چاہیے۔
- امام بھی اس اصول پر عمل کرے تو جماعت کو بتا سکتا ہے۔
- نماز میں سکون اور توجہ کا خیال رکھا جاتا ہے۔
- جسمانی پریشانی کو روک کر نماز میں کھڑا ہونا مناسب نہیں۔
