سنن نسائی حدیث ۸۵۲ - حی علی الصلاۃ سننے پر جماعت
حی علی الصلاۃ سنو تو جماعت میں آؤ
سنن نسائی : ۸۵۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۵۲
أَخْبَرَنَا هَارُونُ بْنُ زَيْدِ بْنِ أَبِي الزَّرْقَاءِ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . ح وأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قال : حَدَّثَنَا قَاسِمُ بْنُ يَزَيْدٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَابِسٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ ابْنِ أُمِّ مَكْتُومٍ أَنَّهُ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ الْمَدِينَةَ كَثِيرَةُ الْهَوَامِّ وَالسِّبَاعِ قَالَ : " هَلْ تَسْمَعُ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " فَحَيَّ هَلًا وَلَمْ يُرَخِّصْ لَهُ " .
عبداللہ بن ام مکتوم روایت:
´عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مدینہ میں کیڑے مکوڑے (سانپ بچھو وغیرہ) اور درندے بہت ہیں، (تو کیا میں گھر میں نماز پڑھ لیا کروں) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”کیا تم «حى على الصلاة»، اور «حى على الفلاح» کی آواز سنتے ہو؟“ انہوں نے کہا: جی ہاں، (سنتا ہوں) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر تو آؤ“، اور آپ نے انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔
سنن نسائی حدیث ۸۵۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ مدینہ میں کیڑے مکوڑے اور درندے زیادہ ہیں، یعنی راستے میں خطرہ ہو سکتا ہے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: کیا تم "حی علی الصلاۃ" اور "حی علی الفلاح" کی آواز سنتے ہو؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: پھر آؤ، اور انہیں جماعت سے غیر حاضر رہنے کی اجازت نہیں دی۔ یہ روایت "حی علی الصلاۃ"، "اذان سن کر نماز" اور "جماعت کی پابندی" کے بارے میں بہت صاف ہے۔ حدیث میں خطرات کا ذکر موجود ہے، مگر فیصلہ اذان سننے سے جوڑا گیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز کی جماعت کو بہت اہم سمجھا گیا ہے۔ البتہ متن میں یہی واقعہ ہے، اس سے آگے عمومی حالات کی تفصیل علما کے فہم پر چھوڑنی چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اذان کی آواز سننا جماعت میں آنے کی بڑی وجہ ہے۔
- عبداللہ بن ام مکتوم رضی اللہ عنہ کو اجازت نہیں دی گئی۔
- حی علی الصلاۃ نماز کی عملی دعوت ہے۔
- جماعت کی پابندی کو معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
