سنن نسائی حدیث ۸۵۴ - کھانا حاضر ہو تو پہلے کھانا
کھانا حاضر ہو تو پہلے کھانا: نماز میں اطمینان
سنن نسائی : ۸۵۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۸۵۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ أَنَسٍ ، قال : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِذَا حَضَرَ الْعَشَاءُ وَأُقِيمَتِ الصَّلَاةُ فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ " .
انس روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب شام کا کھانا حاضر ہو، اور نماز (جماعت) کھڑی کر دی گئی ہو، تو پہلے کھانا کھاؤ“۔
سنن نسائی حدیث ۸۵۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب شام کا کھانا حاضر ہو اور نماز قائم کر دی گئی ہو تو پہلے کھانا کھاؤ۔ یہ حدیث "کھانا حاضر ہو تو نماز" اور "نماز میں خشوع" کے بارے میں ہے۔ مقصد یہ ہے کہ انسان کا دل کھانے میں اٹکا نہ رہے اور وہ نماز میں بے چینی محسوس نہ کرے۔ متن میں خاص طور پر شام کے کھانے اور نماز قائم ہونے کی صورت بیان ہوئی ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ نماز کو ہمیشہ ٹالنا ہے، بلکہ حدیث میں وہ حالت ہے جب کھانا سامنے حاضر ہو اور آدمی کی توجہ اسی طرف ہو سکتی ہو۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آسانی بتائی کہ پہلے ضرورت پوری کر لو، پھر نماز اطمینان سے ادا کرو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- کھانا سامنے ہو تو پہلے کھانے کی اجازت دی گئی ہے۔
- نماز میں دل کی توجہ اور اطمینان مطلوب ہے۔
- حدیث میں شام کے کھانے کی خاص صورت بیان ہوئی ہے۔
- دین میں غیر ضروری مشقت نہیں، بلکہ آسانی بھی ہے۔
