سنن نسائی حدیث ۸۵۵ - بارش میں خیموں میں نماز

بارش میں گھر یا ڈیرے میں نماز کی اجازت

سنن نسائیحدیث نمبر ۸۵۵

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي الْمَلِيحِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قال : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : بِحُنَيْنٍ فَأَصَابَنَا مَطَرٌ " فَنَادَى مُنَادِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ صَلُّوا فِي رِحَالِكُمْ " .

اسامہ بن عمیر روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے کہ ہم پر بارش ہونے لگی، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی: (لوگو!) اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔

سنن نسائی حدیث ۸۵۵ کا خلاصہ

حضرت اسامہ بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حنین میں تھے، بارش ہونے لگی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مؤذن نے آواز لگائی کہ اپنے ڈیروں میں نماز پڑھ لو۔ یہ حدیث "بارش میں گھر میں نماز" اور "صلوا فی رحالکم" کے بارے میں بہت واضح ہے۔ یہاں جماعت کی اہمیت اپنی جگہ ہے، مگر بارش کی وجہ سے لوگوں کو مشقت سے بچانے کے لیے آسانی دی گئی۔ روایت میں خاص طور پر سفر یا پڑاؤ کا ماحول ہے، جہاں لوگ اپنے ڈیروں میں تھے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ شریعت نماز کو چھوڑنے کی نہیں، بلکہ حالات کے مطابق آسان طریقے سے ادا کرنے کی رہنمائی دیتی ہے۔ بارش، راستے کی مشکل اور اجتماعی نظم کے ساتھ مؤذن کے اعلان کا پہلو بھی سامنے آتا ہے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • بارش کے وقت لوگوں کو اپنے ٹھکانوں میں نماز پڑھنے کا اعلان کیا گیا۔
  • مشکل حالات میں دین آسانی کا راستہ دکھاتا ہے۔
  • نماز چھوڑنے کی نہیں، مناسب جگہ ادا کرنے کی ہدایت ہے۔
  • اعلان مؤذن کے ذریعے کیا گیا تاکہ سب کو معلوم ہو جائے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں