سنن نسائی حدیث ۹۱۱ - فاتحہ واجب
لا صلاۃ لمن لم یقرأ بفاتحۃ الکتاب کی حدیث
سنن نسائی : ۹۱۱
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۱۱
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا صَلَاةَ لِمَنْ لَمْ يَقْرَأْ بِفَاتِحَةِ الْكِتَابِ " .
عبادہ بن صامت روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۱۱ کا خلاصہ
اس حدیث میں عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلى الله عليه وسلم نے فرمایا: اس شخص کی نماز نہیں جو سورۃ فاتحہ نہ پڑھے۔ متن بہت مختصر ہے مگر بات بہت واضح ہے۔ سورۃ فاتحہ کو نماز کی قراءت میں اصل مقام حاصل ہے، اور یہی وجہ ہے کہ اس حدیث کو لوگ نماز میں فاتحہ پڑھنے کے مسئلے میں بہت تلاش کرتے ہیں۔ یہاں لمبی تفصیل نہیں، نہ امام کے پیچھے کی ہر صورت بیان ہوئی ہے، بلکہ صرف اصل جملہ نقل ہوا ہے۔ اس لیے شرح میں اسی جملے پر رکنا مناسب ہے۔ ایک مسلمان کے لیے یہ حدیث یاد دہانی ہے کہ نماز صرف حرکات کا نام نہیں، اس میں قرآن کی قراءت بھی شامل ہے۔ سورۃ فاتحہ میں حمد، بندگی، مدد طلب کرنا اور سیدھے راستے کی دعا جمع ہے، اسی لیے نماز میں اسے خاص مقام حاصل ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ فاتحہ نہ پڑھنے والے کی نماز کے بارے میں سخت جملہ آیا ہے۔
- نماز میں قراءت صرف رسمی عمل نہیں بلکہ عبادت کا حصہ ہے۔
- حدیث مختصر ہے، اس لیے اس سے وہی بات لی جائے جو صاف بیان ہوئی ہے۔
