سنن نسائی حدیث ۹۳۵ - وحی کی سختی اور یادداشت
وحی کی سختی اور نبی صلى الله عليه وسلم کی کیفیت
سنن نسائی : ۹۳۵
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۳۵
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ وَالْحَارِثُ بْنُ مِسْكِينٍ قِرَاءَةً عَلَيْهِ وَأَنَا أَسْمَعُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، عَنِ ابْنِ الْقَاسِمِ ، قال : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ . فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ مَا قَالَ وَأَحْيَانًا يَتَمَثَّلُ لِي الْمَلَكُ رَجُلًا فَيُكَلِّمُنِي فَأَعِي مَا يَقُولُ " قَالَتْ عَائِشَةُ وَلَقَدْ رَأَيْتُهُ يَنْزِلُ عَلَيْهِ فِي الْيَوْمِ الشَّدِيدِ الْبَرْدِ فَيَفْصِمُ عَنْهُ وَإِنَّ جَبِينَهُ لَيَتَفَصَّدُ عَرَقًا .
عائشہ روایت:
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کبھی میرے پاس گھنٹی کی آواز کی شکل میں آتی ہے، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور جو وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور کبھی میرے پاس فرشتہ آدمی کی شکل میں آتا ہے اور مجھ سے باتیں کرتا ہے، اور جو کچھ وہ کہتا ہے میں اسے یاد کر لیتا ہوں“، ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ میں نے کڑکڑاتے جاڑے میں آپ پر وحی اترتے دیکھا، پھر وہ بند ہوتی اور حال یہ ہوتا کہ آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔
سنن نسائی حدیث ۹۳۵ کا خلاصہ
اس حدیث میں حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ کے سوال کا تفصیلی جواب ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کیسے آتی تھی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی وحی گھنٹی کی آواز جیسی آتی ہے، اور یہ صورت آپ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ پھر وہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے اور آپ وہ بات یاد کر لیتے ہیں جو فرشتہ کہتا ہے۔ کبھی فرشتہ آدمی کی صورت میں آتا ہے، آپ سے بات کرتا ہے، اور آپ اس کی بات یاد کر لیتے ہیں۔ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بھی بیان کیا کہ سخت سرد دن میں وحی اترتی، پھر ختم ہوتی تو آپ کی پیشانی سے پسینہ بہہ رہا ہوتا۔ یہ روایت وحی کی حقیقت نہیں، بلکہ اس کی محسوس کیفیت بیان کرتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی کا آنا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے سخت کیفیت رکھتا تھا۔
- آپ صلی اللہ علیہ وسلم وحی کے الفاظ یاد کر لیتے تھے۔
- فرشتہ کبھی آدمی کی صورت میں آ کر بات کرتا تھا۔
- سردی میں پسینہ آنا وحی کی سختی کو ظاہر کرتا ہے۔
