سنن نسائی حدیث ۹۳۴ - وحی آنے کی کیفیت
رسول اللہ صلى الله عليه وسلم پر وحی کیسے آتی تھی؟
سنن نسائی : ۹۳۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۳۴
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ قال : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ قالت : سَأَلَ الْحَارِثُ بْنُ هِشَامٍ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَيْفَ يَأْتِيكَ الْوَحْيُ . قَالَ : " فِي مِثْلِ صَلْصَلَةِ الْجَرَسِ فَيَفْصِمُ عَنِّي وَقَدْ وَعَيْتُ زِيَادَةً وَهُوَ أَشَدُّهُ عَلَيَّ وَأَحْيَانًا يَأْتِينِي فِي مِثْلِ صُورَةِ الْفَتَى فَيَنْبِذُهُ إِلَيَّ " .
عائشہ روایت:
حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: آپ پر وحی کیسے آتی ہے؟ تو آپ نے جواب دیا: ”گھنٹی کی آواز کی طرح، پھر وہ بند ہو جاتی ہے اور میں اسے یاد کر لیتا ہوں، اور یہ قسم میرے اوپر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے، اور کبھی وحی کا فرشتہ میرے پاس نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے، اور وہ مجھ سے کہہ جاتا ہے“۔
سنن نسائی حدیث ۹۳۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ حارث بن ہشام رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کہ آپ پر وحی کیسے آتی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کبھی وہ گھنٹی کی آواز جیسی آتی ہے، پھر وہ کیفیت ختم ہو جاتی ہے اور آپ اسے یاد کر لیتے ہیں۔ آپ نے بتایا کہ یہ صورت آپ پر سب سے زیادہ سخت ہوتی ہے۔ کبھی وحی کا فرشتہ نوجوان آدمی کی شکل میں آتا ہے اور آپ سے کہہ جاتا ہے۔ اس روایت کا مرکزی موضوع وحی کی کیفیت ہے۔ اس میں وحی کے دو انداز بیان ہوئے: ایک سخت کیفیت کے ساتھ، دوسرا فرشتے کے انسانی صورت میں آنے کے ساتھ۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر مختلف صورتوں میں آتی تھی۔
- گھنٹی جیسی آواز والی کیفیت آپ پر سب سے زیادہ سخت تھی۔
- وحی ختم ہونے کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسے یاد رکھتے تھے۔
- کبھی فرشتہ انسانی صورت میں آ کر بات کرتا تھا۔
