سنن نسائی حدیث ۹۵۲ - فجر میں سورۃ تکویر

فجر میں سورۃ تکویر پڑھنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۵۲

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْبَلْخِيُّ قال : حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَالْمَسْعُودِيِّ ، عَنِ الْوَلِيدِ بْنِ سُرَيْعٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ حُرَيْثٍ قال : " سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الْفَجْرِ إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ " .

عمرو بن حریث روایت:

میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فجر میں «إذا الشمس كورت» پڑھتے سنا۔

سنن نسائی حدیث ۹۵۲ کا خلاصہ

اس حدیث میں عمرو بن حریث رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے نبی اکرم صلى الله عليه وسلم کو فجر میں ‘إذا الشمس كورت’ پڑھتے سنا۔ یہ سورۃ تکویر کا آغاز ہے۔ روایت مختصر ہے، مگر فجر کی نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم کی قراءت کا ایک واضح نمونہ دیتی ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ فجر میں مختلف سورتیں پڑھی جاتی تھیں؛ کبھی سورۃ ق، کبھی معوذتین، کبھی جمعہ کے دن سورۃ سجدہ اور سورۃ دہر، اور یہاں سورۃ تکویر کا ذکر ہے۔ اس حدیث کی حد تک بات صرف اتنی ہے کہ آپ صلى الله عليه وسلم نے فجر میں یہ سورت پڑھی، اس لیے اسے فجر قراءت کے باب میں سمجھنا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • نبی صلى الله عليه وسلم سے فجر میں سورۃ تکویر پڑھنا ثابت ہے۔
  • فجر کی قراءت میں مختلف سورتیں آ سکتی ہیں۔
  • صحابہ کرام نماز میں نبی صلى الله عليه وسلم کی تلاوت کو غور سے سنتے تھے۔
  • حدیث مختصر ہو تب بھی نماز کے عمل کا اہم پہلو بتا سکتی ہے۔

اس سے متعلق احادیث

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں