سنن نسائی حدیث ۹۶۲ - سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت
سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت کی حدیث
سنن نسائی : ۹۶۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۶۲
أَخْبَرَنَا قُتَيْبَةُ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَرَأَ بِهِمْ : " إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ سورة الانشقاق آية 1 رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجَدَ فِيهَا " .
ابوسلمہ بن عبدالرحمٰن روایت:
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے «إذا السماء انشقت» پڑھ کر سنایا تو انہوں نے اس میں سجدہ کیا، جب وہ سجدہ سے فارغ ہوئے تو انہوں نے لوگوں کو بتایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس میں سجدہ کیا تھا۔
سنن نسائی حدیث ۹۶۲ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کا عمل صاف طور پر بتایا گیا ہے۔ انہوں نے «إذا السماء انشقت» یعنی سورۃ الانشقاق پڑھ کر سنائی، پھر اس میں سجدہ کیا۔ سجدہ سے فارغ ہونے کے بعد انہوں نے لوگوں کو وجہ بھی بتا دی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سورت میں سجدہ کیا تھا۔ اس سے اصل بات یہ سامنے آتی ہے کہ سجدہ تلاوت صرف ایک ذاتی پسند نہیں، بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔ خاص طور پر سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت کا ذکر اس روایت کا مرکزی پیغام ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے پہلے عمل کیا، پھر لوگوں کی سمجھ کے لیے دلیل بھی بیان کی، تاکہ نماز اور تلاوت میں سنت کی پیروی واضح رہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ انشقاق کی تلاوت پر سجدہ کرنا رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کے عمل سے ثابت ہے۔
- دینی عمل کے بعد اس کی وجہ بتانا لوگوں کی سمجھ میں مدد دیتا ہے۔
- صحابہ کرام سنت کو عمل کے ذریعے بھی سکھاتے تھے۔
- سجدہ تلاوت میں اصل بنیاد نبی صلى الله عليه وسلم کی پیروی ہے۔
