سنن نسائی حدیث ۹۶۴ - سورۃ انشقاق اور اقراء میں سجدہ
سورۃ انشقاق اور سورۃ اقراء میں سجدہ تلاوت
سنن نسائی : ۹۶۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۶۴
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَنْصُورٍ ، قال : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " سَجَدْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ " .
ابوہریرہ روایت:
ہم نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
سنن نسائی حدیث ۹۶۴ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنے عمل کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ جوڑ کر بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ اس روایت میں دو سورتوں کا ذکر ہے: سورۃ الانشقاق اور سورۃ العلق۔ اس کا مرکزی موضوع سجدہ تلاوت ہے، خاص طور پر ان سورتوں میں آنے والا سجدہ۔ حدیث میں یہ بھی صاف ہے کہ یہ عمل جماعت کے ساتھ بھی ہوا، کیونکہ صحابی کہہ رہے ہیں کہ ہم نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سجدہ کیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ جب امام ایسی آیت پڑھے اور سجدہ کرے تو مقتدی بھی اس کے ساتھ سجدہ کرتے ہیں۔ بات اتنی ہی ہے جتنی حدیث میں آئی ہے: نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پڑھا، سجدہ کیا، اور صحابہ نے ساتھ سجدہ کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ انشقاق اور سورۃ اقراء میں سجدہ تلاوت کا ذکر آیا ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ صحابہ نے بھی سجدہ کیا۔
- امام کے ساتھ مقتدی کا سجدہ کرنا اس روایت سے سمجھ آتا ہے۔
- حدیث میں عمل کو براہ راست نبی صلى الله عليه وسلم سے جوڑا گیا ہے۔
