سنن نسائی حدیث ۹۶۸ - نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سجدہ تلاوت
نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سورۃ انشقاق اور اقراء کا سجدہ
سنن نسائی : ۹۶۸
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۶۸
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَوَكِيعٌ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ مُوسَى ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " سَجَدْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ ، وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
سنن نسائی حدیث ۹۶۸ کا خلاصہ
اس حدیث میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اپنا براہ راست مشاہدہ بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ یہ الفاظ بہت اہم ہیں، کیونکہ یہاں بات کسی سنی سنائی خبر کے انداز میں نہیں، بلکہ ساتھ موجود ہونے کے انداز میں بیان ہوئی ہے۔ اصل موضوع سجدہ تلاوت ہے، اور دونوں سورتوں کا نام واضح طور پر آیا ہے۔ اس روایت سے یہ سمجھ آتا ہے کہ صحابہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز یا تلاوت کے اعمال کو غور سے دیکھتے تھے اور بعد میں اسی طرح بیان کرتے تھے۔ حدیث میں کوئی طویل حکم نہیں، مگر عمل واضح ہے: ان دو سورتوں میں سجدہ کیا گیا، اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ خود اس میں شریک تھے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- ابوہریرہؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کے ساتھ سجدہ کرنے کا ذکر کیا۔
- سورۃ انشقاق اور سورۃ اقراء کے سجدہ کا ثبوت ملتا ہے۔
- صحابہ نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کو یاد رکھتے اور بیان کرتے تھے۔
- حدیث میں براہ راست مشاہدہ بیان کیا گیا ہے۔
