سنن نسائی حدیث ۹۶۷ - دو سورتوں میں سجدہ کی سنت
سورۃ انشقاق اور اقراء میں سجدہ کی سنت
سنن نسائی : ۹۶۷
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۶۷
أَخْبَرَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قال : أَنْبَأَنَا الْمُعْتَمِرُ ، عَنْ قُرَّةَ ، عَنِ ابْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ وَاقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ .
ابوہریرہ روایت:
ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہم نے اور جو ان دونوں سے بہتر تھے، انہوں نے یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔
سنن نسائی حدیث ۹۶۷ کا خلاصہ
یہ حدیث پچھلی روایت سے زیادہ واضح انداز میں دو سورتوں کا نام لاتی ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما نے، اور ان دونوں سے بہتر یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے، «إذا السماء انشقت» اور «اقرأ باسم ربك» میں سجدہ کیا۔ یہاں سجدہ تلاوت کا موضوع دو سورتوں کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ عمل نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد صحابہ میں بھی باقی رہا۔ جو شخص سورۃ انشقاق سجدہ تلاوت یا سورۃ اقراء سجدہ کی حدیث تلاش کرتا ہے، اسے اس روایت میں دونوں نام ایک ساتھ ملتے ہیں۔ حدیث میں صرف عمل بیان ہوا ہے، اس لیے اس سے اتنی ہی بات لی جائے گی کہ ان سورتوں میں سجدہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ سے نقل ہوا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ انشقاق اور سورۃ اقراء دونوں میں سجدہ کا ذکر ہے۔
- نبی صلى الله عليه وسلم اور بڑے صحابہ نے اس عمل کو کیا۔
- سنت کا عمل صحابہ کے ذریعے امت تک پہنچا۔
- روایت میں عمل کی حد تک بات آئی ہے، اضافی تفصیل نہیں۔
