سنن نسائی حدیث ۹۶۶ - ابوبکر و عمرؓ کا سورۃ انشقاق میں سجدہ
ابوبکرؓ اور عمرؓ کا سورۃ انشقاق میں سجدہ
سنن نسائی : ۹۶۶
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۶۶
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عَلِيٍّ ، قال : حَدَّثَنَا يَحْيَى ، قال : حَدَّثَنَا قُرَّةُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " سَجَدَ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ . وَمَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنْهُمَا " .
ابوہریرہ روایت:
ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا، اور جو ان دونوں سے بہتر تھے انہوں نے بھی (یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی)۔
سنن نسائی حدیث ۹۶۶ کا خلاصہ
اس روایت میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سورۃ انشقاق کے سجدہ تلاوت کو صحابہ کے عمل کے ذریعے بیان کرتے ہیں۔ وہ کہتے ہیں کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ اور عمر رضی اللہ عنہ نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا، اور جو ان دونوں سے بہتر تھے انہوں نے بھی۔ ترجمہ میں اس سے مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیان کیے گئے ہیں۔ اس حدیث کا پیغام یہ ہے کہ سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت صرف ایک فرد کا عمل نہیں تھا، بلکہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور بڑے صحابہ کے عمل سے نقل ہوا۔ روایت میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کا ذکر اس عمل کی پابندی کو واضح کرتا ہے۔ مگر اصل بنیاد پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل ہے، جس کی طرف ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے اشارہ کیا۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت نبی صلى الله عليه وسلم سے منقول ہے۔
- ابوبکرؓ اور عمرؓ نے بھی اس سجدہ پر عمل کیا۔
- صحابہ سنت کے عمل کو محفوظ رکھتے تھے۔
- حدیث میں اصل دلیل نبی صلى الله عليه وسلم کے عمل کی طرف اشارہ ہے۔
