سنن نسائی حدیث ۹۶۳ - اگر سورۃ انشقاق پڑھی جائے تو سجدہ

سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت کا ثبوت

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۶۳

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي فُدَيْكٍ قال : أَنْبَأَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ ابْنِ قَيْسٍ وَهُوَ مُحَمَّدٌ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي إِذَا السَّمَاءُ انْشَقَّتْ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔

سنن نسائی حدیث ۹۶۳ کا خلاصہ

یہ روایت بہت مختصر ہے، مگر اس کا پیغام صاف ہے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے «إذا السماء انشقت» میں سجدہ کیا۔ یہاں اصل بات سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت کا ثبوت ہے۔ حدیث میں کوئی لمبی تفصیل نہیں، نہ کسی اور سورت کا ذکر ہے، بلکہ صرف نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل بیان ہوا ہے۔ نماز یا تلاوت میں جب ایسی آیت آئے جس کے بارے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا سجدہ کرنا ثابت ہو، تو مسلمان کے لیے یہ سنت کی پیروی کا موقع ہے۔ اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل یاد رکھا اور اسے امت تک پہنچایا۔ اسی لیے سجدہ تلاوت کی حدیث تلاش کرنے والے اس روایت سے خاص طور پر فائدہ لیتے ہیں۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ابوہریرہؓ نے نبی صلى الله عليه وسلم کا عمل سادہ الفاظ میں نقل کیا۔
  • سورۃ انشقاق میں سجدہ تلاوت نبی صلى الله عليه وسلم سے ثابت ہے۔
  • حدیث کا اصل پیغام عملِ نبوی کی پیروی ہے۔
  • مختصر روایت بھی اہم شرعی عمل کو واضح کر سکتی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں