سنن نسائی حدیث ۹۷۴ - ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرنا

ظہر کی پہلی رکعت لمبی کرنے کی حدیث

سنن نسائیحدیث نمبر ۹۷۴

أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، عَنْ عَطِيَّةَ بْنِ قَيْسٍ ، عَنْ قَزَعَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قال : " لَقَدْ كَانَتْ صَلَاةُ الظُّهْرِ تُقَامُ فَيَذْهَبُ الذَّاهِبُ إِلَى الْبَقِيعِ فَيَقْضِي حَاجَتَهُ ، ثُمَّ يَتَوَضَّأُ ، ثُمَّ يَجِيءُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الْأُولَى يُطَوِّلُهَا " .

ابو سعید خدری روایت:

نماز ظہر کھڑی کی جاتی تھی، پھر جانے والا بقیع جاتا اور اپنی حاجت پوری کرتا، پھر وضو کرتا اور واپس آتا، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلی رکعت میں ہوتے، (کیونکہ) آپ اسے خوب لمبی کرتے تھے۔

سنن نسائی حدیث ۹۷۴ کا خلاصہ

اس حدیث میں ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ ظہر کی نماز کی پہلی رکعت کی طوالت کا ذکر کرتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں کہ نماز ظہر کھڑی کی جاتی، پھر کوئی شخص بقیع جاتا، اپنی حاجت پوری کرتا، وضو کرتا اور واپس آتا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ابھی پہلی رکعت ہی میں ہوتے، کیونکہ آپ اسے خوب لمبا کرتے تھے۔ روایت کا اصل موضوع ظہر کی پہلی رکعت کو لمبا کرنا ہے۔ یہاں قراءت کی تفصیل، سورتوں کے نام یا رکعتوں کی پوری ترتیب بیان نہیں ہوئی، بلکہ صرف پہلی رکعت کی لمبائی کا انداز بتایا گیا ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کبھی ظہر کی پہلی رکعت کو اتنا وقت دیتے تھے کہ پیچھے آنے والے کو بھی شامل ہونے کا موقع مل جاتا۔ مگر یہ بات اسی واقعہ کی حد تک ہے، اسے حدیث کے الفاظ سے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • ظہر کی پہلی رکعت کے لمبا ہونے کا ذکر ہے۔
  • حدیث میں لمبائی کا انداز ایک عملی مثال سے بتایا گیا ہے۔
  • روایت میں سورتوں کے نام بیان نہیں ہوئے۔
  • بات صرف ظہر کی پہلی رکعت کی طوالت تک محدود ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں