سنن نسائی حدیث ۹۸۴ - نماز میں سورتوں کا انتخاب
نماز میں سورتوں کا انتخاب: نبوی نماز سے مشابہ انداز
سنن نسائی : ۹۸۴
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۸۴
أَخْبَرَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ سَعِيدٍ ، قال : حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ، عَنِ الضَّحَّاكِ بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " مَا صَلَّيْتُ وَرَاءَ أَحَدٍ أَشْبَهَ صَلَاةً بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فُلَانٍ فَصَلَّيْنَا وَرَاءَ ذَلِكَ الْإِنْسَانِ وَكَانَ يُطِيلُ الْأُولَيَيْنِ مِنَ الظُّهْرِ وَيُخَفِّفُ فِي الْأُخْرَيَيْنِ وَيُخَفِّفُ فِي الْعَصْرِ وَيَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِقِصَارِ الْمُفَصَّلِ وَيَقْرَأُ فِي الْعِشَاءِ بِالشَّمْسِ وَضُحَاهَا وَأَشْبَاهِهَا وَيَقْرَأُ فِي الصُّبْحِ بِسُورَتَيْنِ طَوِيلَتَيْنِ " .
ابوہریرہ روایت:
میں نے فلاں سے بڑھ کر کسی کے پیچھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ نماز نہیں پڑھی (سلیمان کہتے ہیں) ہم نے اس شخص کے پیچھے نماز پڑھی، وہ ظہر کی پہلی دونوں رکعتیں لمبی کرتے تھے، اور آخری دونوں (رکعتیں) ہلکی کرتے، اور عصر بھی ہلکی کرتے، اور مغرب میں قصار مفصل پڑھتے، اور عشاء میں «والشمس وضحاها» اور اسی طرح کی سورتیں پڑھتے، اور فجر میں دو لمبی دو سورتیں پڑھتے۔
سنن نسائی حدیث ۹۸۴ کا خلاصہ
اس روایت میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے ایک شخص کی نماز کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز سے مشابہ بتایا۔ اس کے پیچھے نماز پڑھنے والوں نے دیکھا کہ وہ ظہر کی پہلی دو رکعتیں لمبی کرتا، آخری دو رکعتیں ہلکی کرتا، عصر بھی ہلکی پڑھاتا، مغرب میں قصار مفصل پڑھتا، عشاء میں «والشمس وضحاها» جیسی سورتیں پڑھتا، اور فجر میں دو لمبی سورتیں پڑھتا تھا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نماز میں سورتوں کا انتخاب سوچ سمجھ کر ہونا چاہیے۔ قراءت نہ بے حد لمبی ہو کہ لوگ مشقت میں پڑ جائیں، نہ اتنی جلدی کہ نماز کا حسن کم ہو۔ اصل بات یہ ہے کہ نماز رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طریقے کے قریب ہو۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- امام کو ہر نماز کے وقت کے مطابق قراءت کرنی چاہیے۔
- عشاء میں درمیانی سورتیں پڑھنا اس روایت سے ثابت ہے۔
- فجر میں نسبتاً لمبی قراءت کا ذکر آیا ہے۔
- نماز میں سنت سے مشابہت بہترین معیار ہے۔
