سنن نسائی حدیث ۹۸۹ - مغرب میں سورۃ الدخان
مغرب میں سورۃ الدخان پڑھنے کا ثبوت
سنن نسائی : ۹۸۹
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۸۹
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ ، قال : حَدَّثَنَا أَبِي ، قال : حَدَّثَنَا حَيْوَةُ ، وَذَكَرَ آخَرَ ، قَالَا : حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ هُرْمُزَ حَدَّثَهُ ، أَنَّ مُعَاوِيَةَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُتْبَةَ بْنِ مَسْعُودٍ حَدَّثَهُ ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِ حم ، الدُّخَانِ " .
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ «حم» الدخان پڑھی۔
سنن نسائی حدیث ۹۸۹ کا خلاصہ
عبداللہ بن عتبہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی روایت میں آتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں «حم الدخان» پڑھی۔ یہ حدیث بھی مغرب کی قراءت میں وسعت بتاتی ہے۔ پہلے بعض روایات میں مغرب میں چھوٹی سورتوں کا ذکر ہے، اور یہاں سورۃ الدخان کا ذکر ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مختلف مواقع پر مختلف قراءتیں منقول ہیں۔ ایک مسلمان کے لیے بہتر ہے کہ ان روایات کو ٹکراؤ نہ سمجھے، بلکہ نماز کی قراءت کے جائز دائرے کو سمجھے۔ امام اگر لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو تو اسے مناسب مقدار اور آسانی کو پیش نظر رکھنا چاہیے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغرب میں سورۃ الدخان پڑھنے کا ذکر اس روایت میں آیا ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مغرب میں مختلف سورتیں منقول ہیں۔
- قراءت میں ثابت شدہ وسعت کو سمجھنا چاہیے۔
- امام کو قراءت میں توازن رکھنا چاہیے۔
