سنن نسائی حدیث ۹۹۰ - مغرب میں سورۃ الاعراف
مغرب کی نماز میں سورۃ الاعراف پڑھنے کی حدیث
سنن نسائی : ۹۹۰
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۹۰
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، قال : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِي الْأَسْوَدِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ أَنَّهُ قَالَ لِمَرْوَانَ يَا أَبَا عَبْدِ الْمَلِكِ : أَتَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِ قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ و إِنَّا أَعْطَيْنَاكَ الْكَوْثَرَ قَالَ : " نَعَمْ " قَالَ : " فَمَحْلُوفَةٌ لَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِيهَا بِأَطْوَلِ الطُّولَيَيْنِ المص " .
زید بن ثابت روایت:
´زید بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ` انہوں نے مروان سے پوچھا: اے ابوعبدالملک! کیا تم مغرب میں «قل هو اللہ أحد» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہو؟ تو انہوں نے کہا: جی ہاں! تو انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس میں «المص» جو دو لمبی سورتوں (انعام اور اعراف) میں زیادہ لمبی ہے (سورۃ الاعراف) پڑھتے دیکھا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۹۹۰ کا خلاصہ
اس حدیث میں زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے مروان سے پوچھا کہ کیا وہ مغرب میں «قل هو الله أحد» اور «إنا أعطيناك الكوثر» پڑھتے ہیں۔ جب انہوں نے ہاں کہا تو زید رضی اللہ عنہ نے قسم کھا کر بتایا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مغرب میں «المص» یعنی سورۃ الاعراف پڑھتے دیکھا، جو دو لمبی سورتوں میں زیادہ لمبی ہے۔ اس حدیث سے معلوم ہوتا ہے کہ مغرب کی نماز میں صرف بہت چھوٹی سورتیں پڑھنا ہی واحد طریقہ نہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی لمبی قراءت بھی ثابت ہے۔ البتہ امامت میں لوگوں کی حالت کا خیال بھی دوسری روایات سے معلوم ہوتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغرب میں سورۃ الاعراف پڑھنے کا ثبوت اس روایت میں ہے۔
- چھوٹی سورتیں پڑھنا جائز ہے، مگر یہی واحد معمول نہیں سمجھنا چاہیے۔
- صحابہ کرام نماز کی قراءت کے عمل کو یاد رکھتے تھے۔
- قراءت کے معاملے میں سنت کے مختلف ثابت انداز موجود ہیں۔
