سنن نسائی حدیث ۹۹۲ - اعراف کو دو رکعتوں میں بانٹنا
مغرب میں سورۃ الاعراف کو دو رکعتوں میں پڑھنا
سنن نسائی : ۹۹۲
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۹۲
أَخْبَرَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ ، قال : حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ ، وَأَبُو حَيْوَةَ ، عَنِ ابْنِ أَبِي حَمْزَةَ ، قال : حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " قَرَأَ فِي صَلَاةِ الْمَغْرِبِ بِسُورَةِ الْأَعْرَافِ فَرَّقَهَا فِي رَكْعَتَيْنِ " .
عائشہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب میں سورۃ الاعراف پڑھی، آپ نے اسے دونوں رکعتوں میں بانٹ دیا۔
سنن نسائی حدیث ۹۹۲ کا خلاصہ
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز میں سورۃ الاعراف پڑھی اور اسے دونوں رکعتوں میں بانٹ دیا۔ اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ کبھی مغرب میں طویل قراءت بھی ہوئی، اور جب سورت لمبی ہو تو اسے دو رکعتوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔ یہ حدیث نماز کی قراءت میں ایک عملی نمونہ دیتی ہے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ ہر مغرب میں ایسا ہی کرنا لازم ہے، بلکہ یہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کا ایک ثابت واقعہ ہے۔ مغرب کی قراءت کے بارے میں چھوٹی اور لمبی دونوں قسم کی روایات موجود ہیں، اس لیے معاملہ وسعت والا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- سورۃ الاعراف کو دو رکعتوں میں تقسیم کر کے پڑھنے کا ذکر آیا ہے۔
- مغرب کی نماز میں کبھی لمبی قراءت بھی ثابت ہے۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا عمل قراءت میں رہنمائی دیتا ہے۔
- ایک واقعے کو ہر وقت کے لیے لازم نہیں بنایا جانا چاہیے۔
