سنن نسائی حدیث ۹۹۳ - مغرب کے بعد اور فجر سے پہلے کی قراءت
مغرب کے بعد اور فجر سے پہلے سورۃ الکافرون و الاخلاص
سنن نسائی : ۹۹۳
سنن نسائیحدیث نمبر ۹۹۳
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ سَهْلٍ ، قال : حَدَّثَنِي أَبُو الْجَوَّابِ ، قال : حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ رُزَيْقٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مُهَاجِرٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قال : " رَمَقْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِشْرِينَ مَرَّةً يَقْرَأُ فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْمَغْرِبِ وَفِي الرَّكْعَتَيْنِ قَبْلَ الْفَجْرِ قُلْ يَا أَيُّهَا الْكَافِرُونَ و قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ " .
عبداللہ بن عمر روایت:
میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس مرتبہ مغرب کے بعد کی اور فجر کے پہلے کی دونوں رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو اللہ أحد» پڑھتے دیکھا ہے۔
سنن نسائی حدیث ۹۹۳ کا خلاصہ
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بیس مرتبہ دیکھا کہ آپ مغرب کے بعد کی دو رکعتوں اور فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں «قل يا أيها الكافرون» اور «قل هو الله أحد» پڑھتے تھے۔ اس حدیث میں نفل یا سنت رکعتوں کی قراءت کا ایک واضح عمل ملتا ہے۔ سورۃ الکافرون اور سورۃ الاخلاص دونوں عقیدہ توحید کو صاف انداز میں بیان کرتی ہیں۔ اس روایت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کے معمولات کو غور سے دیکھتے اور یاد رکھتے تھے۔ یہ عمل محبت، اتباع اور نماز میں مختصر مگر معنی خیز قراءت کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- مغرب کے بعد کی دو رکعتوں میں سورۃ الکافرون اور اخلاص پڑھنا ثابت ہے۔
- فجر سے پہلے کی دو رکعتوں میں بھی یہی قراءت منقول ہے۔
- صحابہ کرام نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل کو بار بار دیکھ کر روایت کرتے تھے۔
- مختصر سورتیں بھی معنی کے اعتبار سے بہت بڑی رہنمائی رکھتی ہیں۔
