نکاح کے معاہدے کے اصول
کل احادیث 158
شادی اور نکاح کے معاہدے کے اصول سے متعلق احادیث نبوی
نکاح کے معاہدے کے اصول کے تحت پیش کردہ احادیث مبارکہ میں شادی کے لیے موزوں جیون ساتھی کے انتخاب اور رشتہ طے کرنے کے بنیادی نبوی معیارات واضح کیے گئے ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے رہنمائی فرمائی کہ کسی عورت سے نکاح کے لیے مال، حسن، شرافت اور دین داری کو دیکھا جاتا ہے، لیکن کامیابی کا حقیقی معیار صرف دین داری ہے۔ اسی طرح صالح اور نیک قریشی خواتین کی تعریف کی گئی جو بچوں کی پرورش اور شوہر کے مال کی بہترین نگران ہوتی ہیں۔ احادیث سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ رشتہ داری یا اخوت کی نوعیت کو دیکھ کر نکاح کی حلت متعین ہوتی ہے اور معاشرتی یا ظاہری امیری غریبی کے بجائے انسان کا تقویٰ اور باطنی شرافت نکاح کے معاملے میں سب سے بڑھ کر قیمتی اثاثہ ثابت ہوتی ہے۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، حَدَّثَنَا بَدَلُ بْنُ الْمُحَبَّرِ ، أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ الْعَلَاءِ ابْنَ أَخِي شُعَيْبٍ الرَّازِيِّ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنِي سُلَيْمٍ ، قَالَ : " خَطَبْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُمَامَةَ بِنْتَ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ فَأَنْكَحَنِي مِنْ غَيْرِ أَنْ يَتَشَهَّدَ " .
´بنی سلیم کے ایک شخص کہتے ہیں` میں نے امامہ بنت عبدالمطلب سے نکاح کے لیے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام بھیجا تو آپ نے بغیر خطبہ پڑھے ان سے میرا نکاح کر دیا۔
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَامٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " كَانَتْ خَوْلَةُ بِنْتُ حَكِيمٍ مِنَ اللَّائِي وَهَبْنَ أَنْفُسَهُنَّ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : أَمَا تَسْتَحِي الْمَرْأَةُ أَنْ تَهَبَ نَفْسَهَا لِلرَّجُلِ ؟ ، فَلَمَّا نَزَلَتْ : تُرْجِي مَنْ تَشَاءُ مِنْهُنَّ سورة الأحزاب آية 51 ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا أَرَى رَبَّكَ إِلَّا يُسَارِعُ فِي هَوَاكَ " . رَوَاهُ أَبُو سَعِيدٍ الْمُؤَدِّبُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ ، وَعَبْدَةُ ، عَنْ هِشَامٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ يَزِيدُ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ .
´ہم سے محمد بن سلام نے بیان کیا، کہا ہم سے محمد بن فضیل نے بیان کیا، کہا ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، ان سے ان کے والد نے بیان کیا کہ` خولہ بنت حکیم رضی اللہ عنہا ان عورتوں میں سے تھیں جنہوں نے اپنے آپ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے ہبہ کیا تھا۔ اس پر عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ ایک عورت اپنے آپ کو کسی مرد کے لیے ہبہ کرتے شرماتی نہیں۔ پھر جب آیت «ترجئ من تشاء منهن» ”اے پیغمبر! تو اپنی جس بیوی کو چاہے پیچھے ڈال دے اور جسے چاہے اپنے پاس جگہ دے“ نازل ہوئی تو میں نے کہا: یا رسول اللہ! اب میں سمجھی اللہ تعالیٰ جلد جلد آپ کی خوشی کو پورا کرتا ہے۔ اس حدیث کو ابوسعید (محمد بن مسلم)، مؤدب اور محمد بن بشر اور عبدہ بن سلیمان نے بھی ہشام سے، انہوں نے اپنے والد سے، انہوں نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت کیا ہے۔ ایک نے دوسرے سے کچھ زیادہ مضمون نقل کیا ہے۔
وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَلِيُّ بْنُ مُسْهِرٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ،
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث آئی ہے۔
وحَدَّثَنِيهِ أَبُو كَامِلٍ الْجَحْدَرِيُّ ، حدثنا حَمَّادٌ ، حدثنا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ .
مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔
وحدثنا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ الْأَعْلَى . ح وحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، جَمِيعًا عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ مَعْمَرٍ : وَلَا يَزِدِ الرَّجُلُ عَلَى بَيْعِ أَخِيهِ .
اس سند سے بھی یہ حدیث مروی ہے۔ سوائے اس کے کہ اس میں یہ زیادہ ہے کہ کوئی بھائی اپنے بھائی کی بیع پر بولی نہ بڑھائے۔
وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، حدثنا الْحَجَّاجُ بْنُ أَبِي عُثْمَانَ . ح وحَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنا عِيسَى يَعْنِي ابْنَ يُونُسَ ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ . ح وحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حدثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، حدثنا شَيْبَانُ . ح وحَدَّثَنِي عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، قَالَا : حدثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنْ مَعْمَرٍ . ح وحدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الدَّارِمِيُّ ، أَخْبَرَنا يَحْيَى بْنُ حَسَّانَ ، حدثنا مُعَاوِيَةُ ، كُلُّهُمْ عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، بِمِثْلِ مَعْنَى حَدِيثِ هِشَامٍ ، وَإِسْنَادِهِ ، وَاتَّفَقَ لَفْظُ حَدِيثِ هِشَامٍ ، وَشَيْبَانَ ، وَمُعَاوِيَةَ بْنِ سَلَّامٍ فِي هَذَا الْحَدِيثِ .
اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث اسی طرح مروی ہے۔
وحدثنا ابْنُ أَبِي عُمَرَ ، حدثنا سُفْيَانُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : الثَّيِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِهَا مِنْ وَلِيِّهَا ، وَالْبِكْرُ يَسْتَأْذِنُهَا أَبُوهَا فِي نَفْسِهَا ، وَإِذْنُهَا صُمَاتُهَا ، وَرُبَّمَا قَالَ : وَصَمْتُهَا إِقْرَارُهَا .
اسی سند سے مروی ہوا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیوہ اپنی ذات کی زیادہ حقدار ہے اپنے ولی سے (یعنی نکاح کی مختار ہے) اور کنواری سے اس کا باپ اس کی ذات کے لیے اجازت لے اور اجازت اس کی چپ رہنا ہے۔“ اور بعض وقت راوی نے کہا کہ ”اس کا چپ رہنا گویا اقرار کرنا ہے۔“
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، حَدَّثَنَا غُنْدَرٌ مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَهُ ، وَلَمْ يَرْفَعْهُ وَهَذَا أَصَحُّ . قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَيْرُ مَحْفُوظٍ لَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَفَعَهُ ، إِلَّا مَا رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ قَتَادَةَ مَرْفُوعًا ، وَرُوِي عَنْ عَبْدِ الْأَعْلَى ، عَنْ سَعِيدٍ هَذَا الْحَدِيثُ مَوْقُوفًا ، وَالصَّحِيحُ مَا رُوِيَ عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَوْلُهُ : لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ ، هَكَذَا رَوَى أَصْحَابُ قَتَادَةَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ زَيْدٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ : لَا نِكَاحَ إِلَّا بِبَيِّنَةٍ ، وَهَكَذَا رَوَى غَيْرُ وَاحِدٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ نَحْوَ هَذَا مَوْقُوفًا ، وَفِي هَذَا الْبَاب : عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ ، وَأَنَسٍ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا عِنْدَ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَنْ بَعْدَهُمْ مِنَ التَّابِعِينَ وَغَيْرِهِمْ ، قَالُوا : لَا نِكَاحَ إِلَّا بِشُهُودٍ ، لَمْ يَخْتَلِفُوا فِي ذَلِكَ مَنْ مَضَى مِنْهُمْ ، إِلَّا قَوْمًا مِنَ الْمُتَأَخِّرِينَ مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ ، وَإِنَّمَا اخْتَلَفَ أَهْلُ الْعِلْمِ فِي هَذَا إِذَا شَهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ ، فَقَالَ أَكْثَرُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَهْلِ الْكُوفَةِ وَغَيْرِهِمْ : " لَا يَجُوزُ النِّكَاحُ حَتَّى يَشْهَدَ الشَّاهِدَانِ مَعًا عِنْدَ عُقْدَةِ النِّكَاحِ " وَقَدْ رَأَى بَعْضُ أَهْلِ الْمَدِينَةِ : " إِذَا أُشْهِدَ وَاحِدٌ بَعْدَ وَاحِدٍ ، فَإِنَّهُ جَائِزٌ إِذَا أَعْلَنُوا ذَلِكَ " وَهُوَ قَوْلُ : مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ ، وَغَيْرِهِ ، هَكَذَا قَالَ إِسْحَاق فِيمَا حَكَى عَنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ : " يَجُوزُ شَهَادَةُ رَجُلٍ وَامْرَأَتَيْنِ فِي النِّكَاحِ " وَهُوَ قَوْلُ : أَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق .
´اس سند سے بھی` سعید بن ابی عروبہ نے اسی طرح کی حدیث بیان کی ہے لیکن انہوں نے اسے مرفوع نہیں کیا۔ اور یہی زیادہ صحیح ہے۔
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى يَعْنِي ابْنَ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي سَعِيدُ بْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " تُنْكَحُ النِّسَاءُ لِأَرْبَعٍ : لِمَالِهَا وَلِحَسَبِهَا وَلِجَمَالِهَا وَلِدِينِهَا ، فَاظْفَرْ بِذَاتِ الدِّينِ تَرِبَتْ يَدَاكَ " .
ابوہریرہ روایت:
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عورتوں سے نکاح چار چیزوں کی بنا پر کیا جاتا ہے: ان کے مال کی وجہ سے، ان کے حسب و نسب کی وجہ سے، ان کی خوبصورتی کی بنا پر، اور ان کی دین داری کے سبب، تم دیندار عورت سے نکاح کر کے کامیاب بن جاؤ، تمہارے ہاتھ خاک آلود ہوں ۱؎“۔
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْرِو بْنِ السَّرْحِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا يَخْطُبُ الرَّجُلُ عَلَى خِطْبَةِ أَخِيهِ " .
ابوہریرہ روایت:
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”آدمی اپنے بھائی کے پیغام پر پیغام نہ بھیجے“۔
