بیوہ کی عدت

کل احادیث 101

بیوہ کی عدت کے متعلق احادیثِ مبارکہ اور اہم احکام

ان احادیثِ مبارکہ میں بیوہ کی عدت کے حوالے سے نہایت واضح احکام بیان کیے گئے ہیں۔ سبیعہ اسلمیہ رضی اللہ عنہا کے واقعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اگر شوہر کی وفات کے وقت عورت حاملہ ہو، تو اس کی عدت وضع حمل (بچے کی پیدائش) کے ساتھ ہی ختم ہو جاتی ہے، خواہ اس میں چند دن ہی کیوں نہ گزرے ہوں، اور وہ دوسرا نکاح کر سکتی ہے۔ دوسری طرف، عام حالات میں بیوہ کے لیے عدت اور سوگ کی مدت چار ماہ اور دس دن مقرر کی گئی ہے۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والی کسی بھی خاتون کے لیے اپنے شوہر کے علاوہ کسی بھی میت پر تین دن سے زیادہ سوگ منانا جائز نہیں ہے، جبکہ شوہر کی وفات پر یہ مدت چار ماہ دس دن لازم ہے۔

وَحَدَّثَتْهُ زَيْنَبُ ، عَنْ أُمِّهَا ، وَعَنْ زَيْنَبَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ عَنِ امْرَأَةٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

‏‏‏‏ اور زینب نے ایسے ہی حدیث اپنی ماں (سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا) سے نقل کی اور ام المؤمنین سیدہ زینب رضی اللہ عنہا سے یا اور کسی بی بی سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی۔

وحدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا شُعْبَةُ ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ نَافِعٍ ، بِالْحَدِيثَيْنِ جَمِيعًا حَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ فِي الْكُحْلِ ، وَحَدِيثِ أُمِّ سَلَمَةَ ، وَأُخْرَى مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ تُسَمِّهَا زَيْنَبَ نَحْوَ حَدِيثِ مُحَمَّدِ بْنِ جَعْفَرٍ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَقُتَيْبَةُ ، وَابْنُ رُمْح ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، أَنَّ صَفِيَّةَ بِنْتَ أَبِي عُبَيْدٍ ، حَدَّثَتْهُ ، عَنْ حَفْصَةَ ، أَوْ عَنْ عَائِشَةَ ، أَوْ عَنْ كِلْتَيْهِمَا : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَوْ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَرَسُولِهِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا " ،

‏‏‏‏ ام المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، یا دونوں سے روایت ہے، کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں حلال ہے اس کو جو ایمان لائے اللہ پر اور پچھلے دن پر یا ایمان لائے اللہ اور اس کے رسول پر، سوگ کرنا کسی مردے پر تین دن سے زیادہ البتہ عورت اپنے خاوند پر کر سکتی ہے۔“

وحدثناه شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حدثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ يَعْنِي ابْنَ مُسْلِمٍ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، بِإِسْنَادِ حَدِيثِ اللَّيْثِ مِثْلَ رِوَايَتِهِ ،

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحدثنا أَبُو الرَّبِيعِ ، حدثنا حَمَّادٌ ، عَنْ أَيُّوبَ . ح وحدثنا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حدثنا أَبِي ، حدثنا عُبَيْدُ اللَّهِ جَمِيعًا ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَعْنَى حَدِيثِهِمْ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحدثناه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حدثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ . ح وحدثنا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حدثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، كِلَاهُمَا عَنْ هِشَامٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَا : عَنْدَ أَدْنَى طُهْرِهَا نُبْذَةً مِنْ قُسْطٍ وَأَظْفَارٍ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث روایت کی گئی ہے۔

أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيل بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا السَّهْمِيُّ يَعْنِي عَبْدَ اللَّهِ بْنَ بَكْرٍ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، عَنْ أَيُّوبَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ أَبِي عُبَيْدٍ ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهِيَ أُمُّ سَلَمَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ , نَحْوَهُ .

´صفیہ بنت ابو عبید نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک بیوی سے` اور بیوی سے مراد ام سلمہ رضی اللہ عنہا ہیں اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اوپر گزری ہوئی حدیث جیسی حدیث بیان کرتی ہیں۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ مُوسَى، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ مَنْصُورٍ نَحْوَهُ . وقَالَ وَفِي الْبَاب : عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ . قَالَ أَبُو عِيسَى : حَدِيثُ أَبِي السَّنَابِلِ ، حَدِيثٌ مَشْهُورٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَلَا نَعْرِفُ لِلْأَسْوَدِ سَمَاعًا مِنْ أَبِي السَّنَابِلِ ، وسَمِعْت مُحَمَّدًا ، يَقُولُ : لَا أَعْرِفُ أَنَّ أَبَا السَّنَابِلِ ، عَاشَ بَعْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَالْعَمَلُ عَلَى هَذَا الْحَدِيثِ عِنْدَ أَكْثَرِ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ ، أَنَّ الْحَامِلَ الْمُتَوَفَّى عَنْهَا زَوْجُهَا إِذَا وَضَعَتْ ، فَقَدْ حَلَّ التَّزْوِيجُ لَهَا ، وَإِنْ لَمْ تَكْنِ انْقَضَتْ عِدَّتُهَا وَهُوَ قَوْلُ : سُفْيَانَ الثَّوْرِيِّ ، وَالشَّافِعِيِّ ، وَأَحْمَدَ ، وَإِسْحَاق ، وقَالَ بَعْضُ أَهْلِ الْعِلْمِ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَغَيْرِهِمْ : تَعْتَدُّ آخِرَ الْأَجَلَيْنِ وَالْقَوْلُ الْأَوَّلُ أَصَحُّ .

‏‏‏‏ امام ترمذی کہتے ہیں: ۱- ابوسنابل کی حدیث مشہور اور اس سند سے غریب ہے، ۲- ہم ابوسنابل سے اسود کا سماع نہیں جانتے ہیں، ۳- میں نے محمد بن اسماعیل بخاری کو کہتے سنا کہ مجھے نہیں معلوم کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد ابوسنابل زندہ رہے یا نہیں، ۴- اس باب میں ام سلمہ رضی الله عنہا سے بھی حدیث روایت ہے، ۵- صحابہ کرام وغیرہم میں سے اکثر اہل علم کا اسی پر عمل ہے کہ حاملہ عورت جس کا شوہر فوت ہو چکا ہو جب بچہ جن دے تو اس کے لیے شادی کرنا جائز ہے، اگرچہ اس کی عدت پوری نہ ہوئی ہو۔ سفیان ثوری، شافعی، احمد اور اسحاق بن راہویہ کا یہی قول ہے، ۶- اور صحابہ کرام وغیرہم میں سے بعض اہل علم کہتے ہیں کہ وضع حمل اور چار ماہ دس دن میں سے جو مدت بعد میں پوری ہو گی اس کے مطابق وہ عدت گزارے گی، پہلا قول زیادہ صحیح ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلَى زَوْجٍ " .

عائشہ روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کسی عورت کے لیے حلال نہیں کہ شوہر کے سوا کسی میت پہ تین دن سے زیادہ سوگ منائے“۔

وحدثنا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَمْرٌو النَّاقِدُ ، وزُهَّيرُ بْنُ حَرْبٍ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالَ يَحْيَى : أَخْبَرَنا ، وَقَالَ الْآخَرُونَ : حدثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّم ، قَالَ : " لَا يَحِلُّ لِامْرَأَةٍ تُؤْمِنُ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ عَلَى مَيِّتٍ فَوْقَ ثَلَاثٍ ، إِلَّا عَلَى زَوْجِهَا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” جو عورت یقین رکھتی ہے اللہ تعالیٰ اور قیامت کا اس کو حلال نہیں ہے کسی مردے کا سوگ کرنا تین دن سے زیادہ سوا اپنے خاوند کے۔“

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں