گدھے کے گوشت کی ممانعت

کل احادیث 11

پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت اور احادیثِ رسول ﷺ

ان احادیث مبارکہ میں پالتو گدھے کے گوشت کی ممانعت کے بارے میں واضح اسلامی احکامات بیان کیے گئے ہیں۔ غزوہ خیبر کے موقع پر جب رسول اللہ ﷺ کو مطلع کیا گیا کہ گدھے کا گوشت پکا کر کھایا جا رہا ہے، تو آپ ﷺ نے خاموشی کے بعد تیسری مرتبہ منادی کے ذریعے اعلان کروایا کہ اللہ اور اس کا رسول تمہیں پالتو گدھوں کا گوشت کھانے سے منع کرتے ہیں۔ اس حکم کی تعمیل میں صحابہ کرام نے گوشت سے ابلتی ہوئی ہانڈیاں الٹ دیں۔ اس کے ساتھ ہی روایات کے مطابق نبی کریم ﷺ نے غزوہ خیبر کے دن پالتو گدھے کے گوشت کے ساتھ ساتھ لہسن کھانے سے بھی منع فرمایا تھا۔ یہ احادیث پالتو گدھے کے گوشت کی حرمت کو واضح کرتی ہیں۔

حَدَّثَنِي عُبَيْدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ أَبِي أُسَامَةَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ أَكْلِ الثُّومِ , وَعَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " ، نَهَى عَنْ أَكْلِ الثُّومِ , هُوَ عَنْ نَافِعٍ وَحْدَهُ ، وَلُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، عَنْ سَالِمٍ .

عبداللہ بن عمر روایت:

غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لہسن اور پالتو گدھوں کے کھانے سے منع فرمایا تھا۔ لہسن کھانے کی ممانعت کا ذکر صرف نافع سے منقول ہے اور پالتو گدھوں کے کھانے کی ممانعت صرف سالم سے منقول ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُقَاتِلٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " نَهَى يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھے کا گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی۔

حَدَّثَنِي إِسْحَاقُ بْنُ نَصْرٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَسَالِمٍ , عَنْ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَكْلِ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَاءَهُ جَاءٍ , فَقَالَ : أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟ فَسَكَتَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّانِيَةَ , فَقَالَ : أُكِلَتِ الْحُمُرُ ؟ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ أَتَاهُ الثَّالِثَةَ , فَقَالَ : أُفْنِيَتِ الْحُمُرُ ؟ فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى فِي النَّاسِ : " إِنَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ يَنْهَيَانِكُمْ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ " ، فَأُكْفِئَتِ الْقُدُورُ وَإِنَّهَا لَتَفُورُ بِاللَّحْمِ .

انس بن مالک روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ایک آنے والے نے حاضر ہو کر عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ اس پر آپ نے خاموشی اختیار کی پھر دوبارہ وہ حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ گدھے کا گوشت کھایا جا رہا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس مرتبہ بھی خاموش رہے ‘ پھر وہ تیسری مرتبہ آئے اور عرض کیا کہ گدھے ختم ہو گئے۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک منادی سے اعلان کرایا کہ اللہ اور اس کے رسول تمہیں پالتو گدھوں کے گوشت کے کھانے سے منع کرتے ہیں۔ چنانچہ تمام ہانڈیاں الٹ دی گئیں حالانکہ وہ گوشت کے ساتھ جوش مار رہی تھیں۔

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنْ عَمْرٍو ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ خَيْبَرَ عَنْ لُحُومِ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ، وَرَخَّصَ فِي الْخَيْلِ " .

جابر بن عبداللہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے غزوہ خیبر کے موقع پر گدھے کے گوشت کھانے کی ممانعت کی تھی اور گھوڑوں کے گوشت کھانے کی اجازت دی تھی۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي الحُسَيْنِ ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ حَفْصٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَا أَدْرِي أَنَهَى عَنْهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَجْلِ أَنَّهُ كَانَ حَمُولَةَ النَّاسِ فَكَرِهَ أَنْ تَذْهَبَ حَمُولَتُهُمْ ، أَوْ حَرَّمَهُ فِي يَوْمِ خَيْبَرَ لَحْمَ الْحُمُرِ الْأَهْلِيَّةِ ؟ " .

ابن عباس روایت:

مجھے معلوم نہیں کہ آیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے گدھے کا گوشت کھانے سے اس لیے منع کیا تھا کہ اس سے بوجھ ڈھونے والے کا کام لیا جاتا ہے اور آپ نے پسند نہیں فرمایا کہ بوجھ ڈھونے والے جانور ختم ہو جائیں یا آپ نے صرف غزوہ خیبر کے موقع پر پالتو گدھوں کے گوشت کی ممانعت کی تھی۔

حَدَّثَنَا مُسْلِمٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ عَدِيِّ بْنِ ثَابِتٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ ، قَالَ : غَزَوْنَا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَهُ .

براء بن عازب روایت:

ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ غزوہ میں شریک تھے پھر پہلی حدیث کی طرح روایت نقل کی۔

حَدَّثَنِي إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، أَخْبَرَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ عَامِرٍ ، عَنْ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " أَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي غَزْوَةِ خَيْبَرَ أَنْ نُلْقِيَ الْحُمُرَ الْأَهْلِيَّةَ نِيئَةً وَنَضِيجَةً ، ثُمَّ لَمْ يَأْمُرْنَا بِأَكْلِهِ بَعْدُ " .

براء بن عازب روایت:

غزوہ خیبر کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ پالتو گدھوں کا گوشت ہم پھینک دیں ‘ کچا بھی اور پکا ہوا بھی ‘ پھر ہمیں اس کے کھانے کا کبھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم نہیں دیا۔

حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، حَدَّثَنَا عَبَّادٌ ، عَنْ الشَّيْبَانِيِّ ، قَالَ : سَمِعْتُ ابْنَ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَصَابَتْنَا مَجَاعَةٌ يَوْمَ خَيْبَرَ ، فَإِنَّ الْقُدُورَ لَتَغْلِي ، قَالَ : وَبَعْضُهَا نَضِجَتْ ، فَجَاءَ مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَأْكُلُوا مِنْ لُحُومِ الْحُمُرِ شَيْئًا وَأَهْرِقُوهَا " ، قَالَ ابْنُ أَبِي أَوْفَى : فَتَحَدَّثْنَا أَنَّهُ إِنَّمَا نَهَى عَنْهَا لِأَنَّهَا لَمْ تُخَمَّسْ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : نَهَى عَنْهَا الْبَتَّةَ لِأَنَّهَا كَانَتْ تَأْكُلُ الْعَذِرَةَ .

ابن ابی اوفی روایت:

غزوہ خیبر میں ایک موقع پر ہم بہت بھوکے تھے ‘ ادھر ہانڈیوں میں ابال آ رہا تھا (گدھے کا گوشت پکایا جا رہا تھا) اور کچھ پک بھی گئیں تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ گدھے کے گوشت کا ایک ذرہ بھی نہ کھاؤ اور اسے پھینک دو۔ ابن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ پھر بعض لوگوں نے کہا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی ممانعت اس لیے کی ہے کہ ابھی اس میں سے خمس نہیں نکالا گیا تھا اور بعض لوگوں کا خیال تھا کہ آپ نے اس کی واقعی ممانعت (ہمیشہ کے لیے) کر دی ہے ‘ کیونکہ یہ گندگی کھاتا ہے۔

حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَدِيُّ بْنُ ثَابِتٍ ، عَنِ الْبَرَاءِ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي أَوْفَى رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ : " أَنَّهُمْ كَانُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابُوا حُمُرًا ، فَطَبَخُوهَا ، فَنَادَى مُنَادِي النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : أَكْفِئُوا الْقُدُورَ " .

براء اور عبداللہ بن ابی اوفی روایت:

´ہم سے حجاج بن منہال نے بیان کیا ‘ کہا ہم سے شعبہ نے بیان کیا ‘ کہا مجھ کو عدی بن ثابت نے خبر دی اور انہیں براء اور عبداللہ بن ابی اوفی رضی اللہ عنہما نے کہ` وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ‘ پھر انہیں گدھے ملے تو انہوں نے ان کا گوشت پکایا لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منادی نے اعلان کیا کہ ہانڈیاں انڈیل دو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں