صفا اور مروہ

کل احادیث 49

صفا اور مروہ کی سعی: احادیث مبارکہ کی روشنی میں اہم رہنمائی

حج اور عمرہ کے اہم ارکان میں صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنا شامل ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق، زمانہ جاہلیت میں بعض لوگ بتوں کی وجہ سے ان پہاڑیوں کے درمیان سعی کرنے کو برا سمجھتے تھے، لیکن اللہ تعالیٰ نے واضح فرمایا کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیاں (شعائر اللہ) ہیں۔ ام المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اور دیگر صحابہ کرام کے مطابق، رسول اللہ ﷺ نے خود صفا اور مروہ کے درمیان سات مرتبہ سعی فرمائی اور اسے امت کے لیے ایک لازم سنت قرار دیا۔ اسلامی تعلیمات کے مطابق، بیت اللہ کے طواف کے بعد صفا اور مروہ کی سعی کیے بغیر عمرہ مکمل نہیں ہوتا اور نبی کریم ﷺ کا یہ طریقہ تمام مسلمانوں کے لیے بہترین نمونہ ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَعَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ الدَّسْتُوَائِيُّ ، عَنْ بُدَيْلِ بْنِ مَيْسَرَةَ ، عَنْ صَفِيَّةَ بِنْتِ شَيْبَةَ ، عَنْ أُمِّ وَلَدٍ لِشَيْبَةَ ، قَالَتْ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ وَهُوَ يَقُولُ : " لَا يُقْطَعُ الْأَبْطَحُ إِلَّا شَدًّا " .

´شیبہ کی ام ولد رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ` میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرتے دیکھا، آپ فرما رہے تھے: ”ابطح کو دوڑ ہی کر طے کیا جائے“ ۱؎۔

وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 " .

‏‏‏‏ عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ انصار کا قاعدہ تھا اور غسان کا کہ وہ اسلام سے پیشتر مناۃ کے لئے لبیک پکارتے تھے اور صفا اور مروہ میں سعی کرنا برا جانتے تھے اور یہی طریقہ تھا ان کے باپ دادا کا جس نے احرام باندھا مناۃ کے لیے وہ صفا اور مروہ میں سعی نہ کرتا تھا اور جب وہ لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تب اللہ پاک نے یہ آیت اتاری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ» کہ ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہے سو جو حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ کرے اس کو گناہ نہیں ہے کہ سعی کرے ان دونوں میں اور جس نے خوشی سے نیکی کی ہے اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور جاننے والا ہے۔“

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ عَاصِمٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، قَالَ : " كَانَتِ الْأَنْصَارُ يَكْرَهُونَ أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، حَتَّى نَزَلَتْ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 " .

‏‏‏‏ سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار صفا اور مروہ کی سعی کو برا جانتے تھے یہاں تک یہ آیت اتری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِن شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَن يَطَّوَّفَ بِهِمَا» ‏‏‏‏۔

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ حَاتِمٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، يَقُولُ : " لَمْ يَطُفْ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَا أَصْحَابُهُ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ إِلَّا طَوَافًا وَاحِدًا " ،

‏‏‏‏ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کہتے تھے کہ سعی نہیں کی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ نے صفا اور مروہ کی مگر ایک بار۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ بْنِ مَيْمُونٍ ، حَدَّثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قال : " كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا طَافَ الطَّوَافَ الْأَوَّلَ خَبَّ ثَلَاثًا وَمَشَى أَرْبَعًا ، وَكَانَ يَسْعَى بَطْنَ الْمَسِيلِ إِذَا طَافَ بَيْنَ الصَّفَا والمروة " ، فَقُلْتُ لِنَافِعٍ : أَكَانَ عَبْدُ اللَّهِ يَمْشِي إِذَا بَلَغَ الرُّكْنَ الْيَمَانِيَ ، قَالَ : لَا ، إِلَّا أَنْ يُزَاحَمَ عَلَى الرُّكْنِ فَإِنَّهُ كَانَ لَا يَدَعُهُ حَتَّى يَسْتَلِمَهُ .

عبداللہ بن عمر روایت:

جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پہلا طواف کرتے تو اس کے تین چکروں میں رمل کرتے اور بقیہ چار میں معمول کے مطابق چلتے اور جب صفا اور مروہ کی سعی کرتے تو آپ نالے کے نشیب میں دوڑا کرتے تھے۔عبیداللہ نے کہا میں نے نافع سے پوچھا، ابن عمر رضی اللہ عنہما جب رکن یمانی کے پاس پہنچتے تو کیا حسب معمول چلنے لگتے تھے؟ انہوں نے فرمایا کہ نہیں۔ البتہ اگر رکن یمانی پر ہجوم ہوتا تو حجر اسود کے پاس آ کر آپ آہستہ چلنے لگتے کیونکہ وہ بغیر چومے اس کو نہیں چھوڑتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَعَمْرُو بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَا : حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ جُمْهَانَ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " إِنْ أَسْعَ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَسْعَى ، وَإِنْ أَمْشِ ، فَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي ، وَأَنَا شَيْخٌ كَبِيرٌ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

اگر میں صفا اور مروہ کے درمیان دوڑوں تو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دوڑتے ہوئے دیکھا ہے، اور اگر میں عام چال چلوں تو میں نے آپ کو ایسا بھی چلتے دیکھا ہے، اور میں بہت بوڑھا ہوں ۱؎۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَ : قُلْتُ لَهَا : إِنِّي لَأَظُنُّ رَجُلًا لَوْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ مَا ضَرَّهُ ، قَالَتْ : لِمَ ؟ قُلْتُ : لِأَنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَقُولُ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 إِلَى آخِرِ الْآيَةِ ، فَقَالَتْ : مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ امْرِئٍ وَلَا عُمْرَتَهُ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ " ، وَلَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ؟ وَهَلْ تَدْرِي فِيمَا كَانَ ذَاكَ إِنَّمَا كَانَ ذَاكَ ؟ أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا يُهِلُّونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ لِصَنَمَيْنِ عَلَى شَطِّ الْبَحْرِ ، يُقَالُ لَهُمَا : إِسَافٌ ، وَنَائِلَةُ ، ثُمَّ يَجِيئُونَ فَيَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، ثُمَّ يَحْلِقُونَ ، فَلَمَّا جَاءَ الْإِسْلَامُ كَرِهُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَهُمَا ، لِلَّذِي كَانُوا يَصْنَعُونَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، قَالَتْ : فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، إِلَى آخِرِهَا ، قَالَتْ : فَطَافُوا " .

عائشہ روایت:

عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ اگر کوئی صفا اور مروہ میں سعی نہ کرے تو کچھ مضائقہ نہیں۔ انہوں نے فرمایا: ”کیوں؟“ میں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ» کہ ”صفا اور مروہ اللہ پاک کی قدرت کی نشانیوں سے ہیں سو کچھ گناہ نہیں ان میں طواف کرنے سے۔“سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا یہ بات نہیں بلکہ یوں ہے کہ حج پورا نہیں ہوتا کسی کا اور نہ عمرہ جب تک طواف نہ کر لے صفا اور مروہ کا (یعنی سعی نہ کرے) اور اگر ایسا ہوتا جیسا تم نے جانا ہے تو اللہ تعالٰی یوں فرماتا کہ ”کچھ گناہ نہیں ان میں طواف نہ کرنے سے“ اور تم جانتے ہو کہ یہ آیت کیونکر اور کس حال میں اتری ہے کیفیت اس کی یہ ہے کہ دریا کے کنارے پر ایام جاہلیت میں دو بت تھے ایک کا نام اساف دوسرے کا نائلہ تھا اور لوگ ان کے پاس جاتے تھے اور پھر آ کر سعی کرتے تھے صفا اور مروہ پر اور پھر سر منڈاتے تھے، پھر جب اسلام آیا تو مسلمانوں نے ان میں سعی کرنے کو برا جانا (یعنی مشرکوں کی چال سمجھی) تب اللہ پاک نے یہ آیت اتاری اسی لئے یوں فرمایا «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ» کہ ”صفا اور مروہ شعائر اللہ سے ہیں اور ان میں طواف کرنا گناہ نہیں۔“ پھر لوگ سعی کرنے لگے (غرض یہ کہ اب سعی واجب ہے اور ترک اس کا روا نہیں)۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ : مَا أَرَى عَلَيَّ جُنَاحًا أَنْ لَا أَتَطَوَّفَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، قَالَتْ : لِمَ ؟ قُلْتُ : لِأَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلّ يَقُولُ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، الْآيَةَ ، فَقَالَتْ : " لَوْ كَانَ كَمَا تَقُولُ لَكَانَ ، فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا ، إِنَّمَا أُنْزِلَ هَذَا فِي أُنَاسٍ مِنَ الْأَنْصَارِ ، كَانُوا إِذَا أَهَلُّوا أَهَلُّوا لِمَنَاةَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ فَلَا يَحِلُّ لَهُمْ أَنْ يَطَّوَّفُوا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا قَدِمُوا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْحَجِّ ذَكَرُوا ذَلِكَ لَهُ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ تَعَالَى هَذِهِ الْآيَةَ ، فَلَعَمْرِي مَا أَتَمَّ اللَّهُ حَجَّ مَنْ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ " .

عائشہ روایت:

عروہ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی کہ اگر کوئی طواف نہ کرے صفا اور مروہ میں تو میں جانتا ہوں کہ کچھ حرج نہیں۔ انہوں نے فرمایا: کیوں؟ کہا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّه» کہ ”صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں سے ہیں پھر گناہ نہیں کوئی اس میں طواف کرے۔“تو انہوں نے فرمایا: اگر یہ بات ہوتی تو یوں فرماتا اللہ پاک کہ ”اگر کوئی طواف نہ کرے تو کچھ گناہ نہیں“ اور یہ آیت تو انصار کے لوگوں میں اتری کہ وہ لوگ جب لبیک پکارتے تو لبیک پکارا کرتے تھے، مناۃ کے نام سے ایام جاہلیت میں اور کہتے تھے کہ ہم کو صفا اور مروہ میں سعی کرنا درست نہیں، پھر جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ حج کو آئے تو اس کا ذکر ہوا تب اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری سو اب قسم ہے میری جان کی کہ پورا نہ ہو گا حج اس کا جو سعی نہ کرے صفا اور مروہ کی۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ ، جَمِيعًا عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ ، قَالَ : ابْنُ أَبِي عُمَرَ : حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، قَالَ : سَمِعْتُ الزُّهْرِيَّ ، يُحَدِّثُ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَا أَرَى عَلَى أَحَدٍ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ شَيْئًا ، وَمَا أُبَالِي أَنْ لَا أَطُوفَ بَيْنَهُمَا ، قَالَتْ : " بِئْسَ مَا قُلْتَ يَا ابْنَ أُخْتِي ، طَافَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَافَ الْمُسْلِمُونَ فَكَانَتْ سُنَّةً ، وَإِنَّمَا كَانَ مَنْ أَهَلَّ لِمَنَاةَ الطَّاغِيَةِ الَّتِي بِالْمُشَلَّلِ ، لَا يَطُوفُونَ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَلَمَّا كَانَ الْإِسْلَامُ سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ، وَلَوْ كَانَتْ كَمَا تَقُولُ ، لَكَانَتْ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ لَا يَطَّوَّفَ بِهِمَا " ، قَالَ الزُّهْرِيُّ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِأَبِي بَكْرِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ هِشَامٍ ، فَأَعْجَبَهُ ذَلِكَ ، وَقَالَ : إِنَّ هَذَا الْعِلْمُ ، وَلَقَدْ سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ يَقُولُونَ : إِنَّمَا كَانَ مَنْ لَا يَطُوفُ بَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ مِنَ الْعَرَبِ ، يَقُولُونَ : إِنَّ طَوَافَنَا بَيْنَ هَذَيْنِ الْحَجَرَيْنِ مِنْ أَمْرِ الْجَاهِلِيَّةِ ، وَقَالَ آخَرُونَ مِنَ الْأَنْصَارِ : إِنَّمَا أُمِرْنَا بِالطَّوَافِ بِالْبَيْتِ ، وَلَمْ نُؤْمَرْ بِهِ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ سورة البقرة آية 158 ، قَالَ أَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ : فَأُرَاهَا قَدْ نَزَلَتْ فِي هَؤُلَاءِ وَهَؤُلَاءِ .

عائشہ روایت:

عروہ نے سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے کہا کہ میں جانتا ہوں کہ جو سعی نہ کرے صفا اور مروہ میں اس پر کچھ گناہ نہیں اور میں تو پرواہ نہیں رکھتا اگر نہ سعی کروں ان میں۔تو انہوں نے فرمایا کہ برا کہا تو نے اے میرے بھانجے! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اور مسلمانوں نے سب نے سعی کی ہے اور یہ سنت ہے یہاں سنت سے مراد واجب ہے اور حقیقت اس کی یہ ہے کہ عرب میں دستور تھا کہ جو مناۃ بدبخت کا جو مثلل میں تھا لبیک پکارتا تھا۔ وہ سعی نہ کرتا تھا صفا، مروہ میں، پھر جب اسلام ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ہم لوگوں نے تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا» کہ ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہے پھر جو حج کرے یا عمرہ لائے اس پر گناہ نہیں کہ ان میں سعی کرے۔“ اور اگر وہ بات ہوتی جو تم نے کہی تو یوں فرماتے کہ گناہ نہیں اس پر جو سعی نہ کرے، ان میں زہری نے کہا کہ میں نے یہ روایت ابوبکر بن عبدالرحمٰن سے بیان کی تو انہوں نے بہت پسند کی اور انہوں نے کہا کہ علم اسی کا نام ہے یعنی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس آیت سے سمجھا اور ابوبکر نے کہا: میں نے سنا ہے بہت لوگوں سے جو علم رکھتے تھے وہ کہتے تھے کہ یہ طواف نہ کرنے والے صفا اور مروہ میں عرب کے لوگ تھے کہ وہ کہتے تھے کہ ان دو پتھروں کے بیچ میں طواف کرنا جاہلیت کا کام تھا، اور دوسرے لوگوں کا قول تھا کہ ہم کو طواف بیت اللہ کا حکم ہوا ہے صفا اور مروہ میں پھرنے کا حکم نہیں ہوا جب اللہ تعالٰی نے یہ آیت اتاری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ» کہ ”صفا اور مروہ دونوں اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہیں۔“ آخر آیت تک ابوبکر نے کہا کہ میں بھی یہی خیال کرتا ہوں کہ انہی دو گروہوں کے واسطے یہ آیت اتری۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ آدَمَ , عَنْ سُفْيَانَ وَهُوَ ابْنُ عُيَيْنَةَ , قَالَ : حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : خَرَجْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَا نُرَى إِلَّا الْحَجَّ قَالَتْ : فَلَمَّا أَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ وَبَيْنَ الصَّفَا وَالْمَرْوَةِ قَالَ : " مَنْ كَانَ مَعَهُ هَدْيٌ فَلْيُقِمْ عَلَى إِحْرَامِهِ ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ مَعَهُ هَدْيٌ ، فَلْيَحْلِلْ " .

عائشہ روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نکلے ہمارے پیش نظر صرف حج تھا تو جب آپ نے بیت اللہ کا طواف کر لیا اور صفا و مروہ کے درمیان سعی کر لی تو آپ نے فرمایا ”جس کے پاس ہدی ہو وہ اپنے احرام پر قائم رہے اور جس کے پاس ہدی نہ ہو وہ حلال ہو جائے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں