صحیح مسلم حدیث ۳۰۸۳ - صفا مروہ اللہ کی نشانیاں
صفا مروہ اللہ کی نشانیاں: سعی کی اصل سمجھ
صحیح مسلم : ۳۰۸۳
صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۸۳
وحَدَّثَنَا حَرْمَلَةُ بْنُ يَحْيَى ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، أَنَّ عَائِشَةَ ، أَخْبَرَتْهُ : " أَنَّ الْأَنْصَارَ كَانُوا قَبْلَ أَنْ يُسْلِمُوا هُمْ وَغَسَّانُ يُهِلُّونَ لِمَنَاةَ ، فَتَحَرَّجُوا أَنْ يَطُوفُوا بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَكَانَ ذَلِكَ سُنَّةً فِي آبَائِهِمْ ، مَنْ أَحْرَمَ لِمَنَاةَ لَمْ يَطُفْ بَيْنَ الصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، وَإِنَّهُمْ سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ حِينَ أَسْلَمُوا ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ فِي ذَلِكَ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ سورة البقرة آية 158 " .
عروہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کو خبر دی کہ انصار کا قاعدہ تھا اور غسان کا کہ وہ اسلام سے پیشتر مناۃ کے لئے لبیک پکارتے تھے اور صفا اور مروہ میں سعی کرنا برا جانتے تھے اور یہی طریقہ تھا ان کے باپ دادا کا جس نے احرام باندھا مناۃ کے لیے وہ صفا اور مروہ میں سعی نہ کرتا تھا اور جب وہ لوگ مسلمان ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا تب اللہ پاک نے یہ آیت اتاری «إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا وَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا فَإِنَّ اللَّهَ شَاكِرٌ عَلِيمٌ» کہ ”صفا اور مروہ اللہ تعالیٰ کی نشانیوں سے ہے سو جو حج کرے بیت اللہ کا یا عمرہ کرے اس کو گناہ نہیں ہے کہ سعی کرے ان دونوں میں اور جس نے خوشی سے نیکی کی ہے اللہ تعالیٰ اس کا قدردان اور جاننے والا ہے۔“
صحیح مسلم حدیث ۳۰۸۳ کا خلاصہ
اس حدیث میں صفا مروہ کی سعی کا پس منظر بتایا گیا ہے۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے خبر دی کہ انصار اور غسان کے کچھ لوگوں کا اسلام سے پہلے ایک خاص طریقہ تھا۔ وہ مناۃ کے لیے احرام باندھتے تھے اور صفا مروہ کے درمیان سعی کو برا سمجھتے تھے۔ جب وہ مسلمان ہوئے تو انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے اس بارے میں پوچھا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ اس روایت کا اہم پیغام یہ ہے کہ اسلام آنے کے بعد پرانی رسم یا جھجھک کو دینی حکم پر غالب نہیں رکھا گیا۔ حج اور عمرہ میں صفا مروہ کی سعی اللہ کی نشانیوں کی تعظیم کے ساتھ ادا کی جاتی ہے۔
اس حدیث سے ہماری تعلیم
- اسلام کے بعد پرانی غلط رسم کو دینی عمل پر ترجیح نہیں دی جاتی۔
- صفا اور مروہ کو اللہ تعالیٰ نے اپنی نشانیوں میں شمار فرمایا۔
- مشکل یا جھجھک والے مسئلے میں رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے پوچھنا صحابہ کا طریقہ تھا۔
- حج و عمرہ کے اعمال اللہ کے بتائے ہوئے طریقے کے مطابق ادا کیے جاتے ہیں۔
