صحیح مسلم حدیث ۳۰۸۲ - سعی صفا مروہ چھوڑنا درست نہیں

سعی صفا مروہ: نبی صلى الله عليه وسلم کی مقرر کردہ سنت

صحیح مسلمحدیث نمبر ۳۰۸۲

وَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ ، حَدَّثَنَا حُجَيْنُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا لَيْثٌ ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، أَنَّهُ قَالَ : أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ ، قَالَ : سَأَلْتُ عَائِشَةَ ، وَسَاقَ الْحَدِيثَ بِنَحْوِهِ ، وَقَالَ فِي الْحَدِيثِ : فَلَمَّا سَأَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ ، فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا كُنَّا نَتَحَرَّجُ أَنْ نَطُوفَ بِالصَّفَا ، وَالْمَرْوَةِ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ : إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلا جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا سورة البقرة آية 158 ، قَالَتْ عَائِشَةُ : " قَدْ سَنَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الطَّوَافَ بَيْنَهُمَا ، فَلَيْسَ لِأَحَدٍ أَنْ يَتْرُكَ الطَّوَافَ بِهِمَا .

عروہ روایت:

عروہ نے وہی قصہ روایت کیا جو اوپر مذکور ہوا اور اس میں یہ ہے کہ جب لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا اور عرض کی کہ یا رسول اللہ! ہم کو یہاں طواف کرنا برا معلوم ہوتا ہے تب اللہ پاک نے یہ آیت اتاری«إِنَّ الصَّفَا وَالْمَرْوَةَ مِنْ شَعَائِرِ اللَّهِ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ أَوِ اعْتَمَرَ فَلاَ جُنَاحَ عَلَيْهِ أَنْ يَطَّوَّفَ بِهِمَا» (۲:البقرۃ:۱۵۸)۔سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ پھر سنت ٹھہرا دیا اس سعی کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے، اب کسی کو اس کا ترک کرنا روا نہیں۔

صحیح مسلم حدیث ۳۰۸۲ کا خلاصہ

یہ حدیث صفا مروہ کی سعی کے بارے میں بہت واضح بات بتاتی ہے۔ بعض لوگوں کو پہلے صفا اور مروہ کے درمیان سعی کرنے میں جھجھک محسوس ہوتی تھی، پھر انہوں نے رسول اللہ صلى الله عليه وسلم سے سوال کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے آیت نازل فرمائی کہ صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اس روایت میں صاف فرما دیا کہ رسول اللہ صلى الله عليه وسلم نے ان دونوں کے درمیان سعی کو مقرر فرمایا، اس لیے کسی کے لیے اسے چھوڑنا مناسب نہیں۔ آسان اردو میں بات یہ ہے کہ حج اور عمرہ کے اعمال میں صفا مروہ کی سعی ایک ثابت شدہ عمل ہے، جسے اپنی غلط فہمی کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا۔

اس حدیث سے ہماری تعلیم

  • دینی جھجھک یا غلط فہمی ہو تو رسول اللہ صلى الله عليه وسلم کی تعلیم سے رہنمائی لی جاتی ہے۔
  • صفا مروہ کی سعی نبی صلى الله عليه وسلم کے مقرر کردہ عمل میں شامل ہے۔
  • قرآن کی آیت کا درست مطلب صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سیکھنا چاہیے۔
  • حج و عمرہ کے اعمال میں اپنی رائے سے کمی نہیں کرنی چاہیے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں