مزدلفہ میں رات گزارنا

کل احادیث 120

مزدلفہ میں رات گزارنا اور مغرب و عشاء کی نمازیں جمع کرنے کے احکام

حج کے اہم مناسک میں عرفات سے واپسی اور مزدلفہ میں رات گزارنا شامل ہے۔ احادیث مبارکہ کے مطابق، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عرفات سے روانگی کے وقت صحابہ کرام کو جلد بازی اور اونٹ تیز دوڑانے سے منع فرمایا اور تاکید کی کہ وقار اور سکون کو لازم پکڑیں کیونکہ تیز دوڑنا کوئی نیکی نہیں ہے۔ سفر کے دوران مزدلفہ کے قریب ایک گھاٹی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مختصر قیام فرمایا، قضائے حاجت کی اور ہلکا وضو کیا۔ جب صحابہ نے نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ نماز آگے (یعنی مزدلفہ میں) پڑھی جائے گی۔ اسلامی اسکالرز کے مطابق، مزدلفہ پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکمل وضو فرمایا اور مغرب و عشاء کی نمازیں ایک ساتھ جمع کر کے ادا کیں اور ان کے درمیان کوئی نفل یا سنت نماز نہیں پڑھی۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اسی سنت پر عمل کرتے ہوئے اسی راستے اور گھاٹی سے گزرتے تھے جہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قیام فرمایا تھا۔

وَحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّهُ لَمْ يَذْكُرْ فِي الْحَدِيثِ : وَلَمْ يَزَلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُلَبِّي حَتَّى رَمَى الْجَمْرَةَ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِهِ : وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُشِيرُ بِيَدِهِ كَمَا يَخْذِفُ الْإِنْسَانُ .

‏‏‏‏ مسلم رحمہ اللہ نے کہا اور روایت کی ہم سے یہی حدیث زہیر بن حرب نے، ان سے ابن جریج نے، ان سے ابوالزبیر نے اسی سند سے مگر اس میں یہ ذکر نہیں کیا کہ رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم لبیک پکارتے رہے یہاں تک کہ جمرہ کو کنکر مارے اور یہ بات زیادہ بیان کی کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم اشارہ کرتے تھے ہاتھ سے (یعنی جب کنکر اٹھانے کا حکم دیا تھا) کہ جیسے چٹکی سے پکڑ کر آدمی کنکرے پھینکتا ہے (یعنی ایسے کنکر اٹھانا)۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ كُرَيْبٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا أَتَى النَّقْبَ الَّذِي يَنْزِلُهُ الْأُمَرَاءُ نَزَلَ فَبَالَ ، وَلَمْ يَقُلْ أَهَرَاقَ ، ثُمَّ دَعَا بِوَضُوءٍ فَتَوَضَّأَ وُضُوءًا خَفِيفًا ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الصَّلَاةَ ، فَقَالَ : " الصَّلَاةُ أَمَامَكَ " .

‏‏‏‏ وہی مضمون ہے جو اوپر کئی بار گزرا اس میں یہ ہے کہ اس گھاٹی میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم اترے جہاں اُمرا اترتے تھے۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءٍ مَوْلَى ابْنِ سِبَاعٍ ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ زَيْدٍ : أَنَّهُ كَانَ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ " أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ، فَلَمَّا جَاءَ الشِّعْبَ أَنَاخَ رَاحِلَتَهُ ، ثُمَّ ذَهَبَ إِلَى الْغَائِطِ ، فَلَمَّا رَجَعَ صَبَبْتُ عَلَيْهِ مِنَ الْإِدَاوَةِ فَتَوَضَّأَ ، ثُمَّ رَكِبَ ، ثُمَّ أَتَى الْمُزْدَلِفَةَ ، فَجَمَعَ بِهَا بَيْنَ الْمَغْرِبِ وَالْعِشَاءِ " .

‏‏‏‏ وہی مضمون ہے مگر اس میں ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم پائخانے تشریف لے گئے اور سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ رضی اللہ عنہ نے چھاگل سے پانی ڈالا تب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو فرمایا۔

وحَدَّثَنَا وحَدَّثَنَا أَبُو الرَّبِيعِ الزَّهْرَانِيُّ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، جميعا عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ ، قَالَ أَبُو الرَّبِيعِ : حَدَّثَنَا حَمَّادٌ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ سُئِلَ أُسَامَةُ ، وَأَنَا شَاهِدٌ ، أَوَ قَالَ : سَأَلْتُ أُسَامَةَ بْنَ زَيْدٍ ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَرْدَفَهُ مِنْ عَرَفَاتٍ ، قُلْتُ : كَيْفَ كَانَ يَسِيرُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ أَفَاضَ مِنْ عَرَفَةَ ؟ قَالَ : " كَانَ يَسِيرُ الْعَنَقَ ، فَإِذَا وَجَدَ فَجْوَةً نَصَّ " .

‏‏‏‏ ہشام نے اپنے باپ سے روایت کی کہ ان کے سامنے کسی نے سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا یا انہوں نے خود پوچھا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اپنی اونٹنی پر سوار کر لیا تھا عرفات سے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیونکر چلتے تھے؟ یعنی اونٹنی کو کس چال سے لیے جاتے تھے۔ تو انہوں نے کہا کہ میٹھی چال چلاتے تھے پھر جب ذرا کھلی جگہ پاتے یعنی جہاں بھیڑ کم ہوتی تو اس جگہ ذرا تیز کر دیتے۔

وحَدَّثَنَاه أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ نُمَيْرٍ ، وَحُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَزَادَ فِي حَدِيثِ حُمَيْدٍ ، قَالَ هِشَامٌ : وَالنَّصُّ فَوْقَ الْعَنَقِ .

‏‏‏‏ ہشام بن عروہ سے اسی اسناد سے وہی مضمون مروی ہوا مگر حمید کی روایت میں یہ ہے کہ ہشام نے کہا کہ نص جو اونٹنی کی چال ہے وہ عنق سے تیز ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَقَالَ : صَلَّاهُمَا بِإِقَامَةٍ وَاحِدَةٍ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے اور اس میں یہ ہے کہ دونوں نمازیں ایک اقامت کے ساتھ پڑھیں۔

وحَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، جميعا عَنِ الثَّقَفِيِّ ، قَالَ ابْنُ الْمُثَنَّى : حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، حَدَّثَنَا أَيُّوبُ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَتْ سَوْدَةُ امْرَأَةً ضَخْمَةً ثَبِطَةً " فَاسْتَأْذَنَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ تُفِيضَ مِنْ جَمْعٍ بِلَيْلٍ ، فَأَذِنَ لَهَا " ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ : فَلَيْتَنِي كُنْتُ اسْتَأْذَنْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَمَا اسْتَأْذَنَتْهُ سَوْدَةُ ، وَكَانَتْ عَائِشَةُ لَا تُفِيضُ إِلَّا مَعَ الْإِمَامِ .

‏‏‏‏ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے فرمایا کہ سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا بہت بھاری بھر کم بی بی تھیں۔ سو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لی کہ مزدلفہ سے رات ہی رات روانہ ہو جائیں (یعنی منیٰ کو) سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو اجازت دے دی سو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی تھیں کہ کاش میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیتی جیسے سیدہ سودہ رضی اللہ عنہا نے لی تھی، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کی عادت تھی کہ آپ مزدلفہ سے امام کے ساتھ لوٹا کرتی تھیں۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ . ح وَحَدَّثَنِي زُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، كِلَاهُمَا عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَاسِمِ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ عَلِيُّ بْنُ خَشْرَمٍ ، أَخْبَرَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، وَفِي رِوَايَتِهِ : قَالَتْ : لَا أَيْ بُنَيَّ ، إِنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَذِنَ لِظُعُنِهِ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے سوائے اس کے کہ اس میں ہے کہ اے بیٹے! نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بی بی کو اجازت دے دی تھی۔

وحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، حَدَّثَنَا عَمْرٌو ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : " كُنْتُ فِيمَنْ قَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ضَعَفَةِ أَهْلِهِ " .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں