مسلمان کی صفات

کل احادیث 17

احادیث نبوی کی روشنی میں ایک سچے مسلمان کی صفات اور مثال

ان مبارک احادیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مومن اور منافق یا کافر کے رویے اور ان کی صفات کو خوبصورت تمثیل کے ذریعے واضح فرمایا ہے۔ فرمانِ نبوی کے مطابق، ایک مومن یا مسلمان کی مثال کھیت کے نرم جھاڑ یا سرکنڈے کی طرح ہے، جسے ہوا کے جھونکے کبھی گرا دیتے ہیں اور کبھی سیدھا کر دیتے ہیں۔ اسلامی احادیث کے اس مفہوم کے مطابق، مومن اپنی زندگی میں آنے والی آزمائشوں اور مصائب پر لچک کا مظاہرہ کرتا ہے اور صبر و شکر کے ساتھ اللہ کی رضا میں جھک جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کا مقررہ وقت (موت) آ جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک منافق یا کافر کی مثال صنوبر کے اس سخت درخت کی طرح ہے جو اپنی جڑ پر سیدھا اور اکڑا کھڑا رہتا ہے اور اسے کوئی آزمائش بظاہر نہیں جھکاتی، لیکن بالاآخر وہ ایک ہی دفعہ جڑ سے اکھڑ کر تباہ ہو جاتا ہے۔ یہ احادیث ہمیں سکھاتی ہیں کہ آزمائشوں میں عاجزی اور لچک مومن کا خاصہ ہے۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَافِعٍ وَعَبْدُ بْنُ حميد ، عَنْ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ بِهَذَا الْإِسْنَادِ ، غَيْرَ أَنَّ فِي حَدِيثِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ مَكَانَ قَوْلِهِ تُمِيلُهُ تُفِيئُهُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی یہ حدیث مبارکہ اسی طرح مروی ہے۔

وحَدَّثَنَاه مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا يَحْيَى وَهُوَ الْقَطَّانُ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ ابْنُ هَاشِمٍ : عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، وقَالَ ابْنُ بَشَّارٍ ، عَنْ ابْنِ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِنَحْوِ حَدِيثِهِمْ ، وَقَالَا جَمِيعًا فِي حَدِيثِهِمَا عَنْ يَحْيَى : وَمَثَلُ الْكَافِرِ مَثَلُ الْأَرْزَةِ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

وحَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا سَيْفٌ ، قَالَ : سَمِعْتُ مُجَاهِدًا ، يَقُولُ : سَمِعْتُ ابْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : أُتِيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجُمَّارٍ فَذَكَرَ نَحْوَ حَدِيثِهِمْ .

‏‏‏‏ ترجمہ وہی ہے جو اوپر گزرا۔

حَدَّثَنِي سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنِي حَفْصُ بْنُ مَيْسَرَةَ ، عَنْ الْعَلَاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " رُبَّ أَشْعَثَ مَدْفُوعٍ بِالْأَبْوَابِ لَوْ أَقْسَمَ عَلَى اللَّهِ لَأَبَرَّهُ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بہت لوگ پریشان بال غبارآلودہ دروازوں پر سے دھکیلے ہوئے ایسے ہیں کہ اگر اللہ کے اعتماد پر کسی بات کی قسم کھا بیٹھیں تو اللہ ان کی قسم کو سچا کر دے۔“

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَعِيدٍ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَثَلُ الْمُؤْمِنِ كَمَثَلِ الزَّرْعِ لَا تَزَالُ الرِّيحُ تُمِيلُهُ ، وَلَا يَزَالُ الْمُؤْمِنُ يُصِيبُهُ الْبَلَاءُ ، وَمَثَلُ الْمُنَافِقِ كَمَثَلِ شَجَرَةِ الْأَرْزِ لَا تَهْتَزُّ حَتَّى تَسْتَحْصِدَ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مومن کی مثال کھیت کی سی ہے، ہمیشہ وہ ہوا سے جھکتا ہے۔ اسی طرح مومن پر ہمیشہ مصیبت آتی ہے اور منافق کی مثال صنوبر کے درخت کی سی ہے کہ کبھی نہیں جھکتا یہاں تک کہ جڑ سے کاٹا جائے۔“

حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ يَعْنِي ابْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُهَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " مِنْ أَشَدِّ أُمَّتِي لِي حُبًّا نَاسٌ يَكُونُونَ بَعْدِي يَوَدُّ أَحَدُهُمْ لَوْ رَآنِي بِأَهْلِهِ وَمَالِهِ " .

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میری امت میں بہت چاہنے والے میرے وہ لوگ ہوں گے جو میرے بعد پیدا ہوں گے۔ ان میں سے کوئی یہ خواہش رکھے گا کاش! اپنے گھر والوں اور مال سب کو صدقہ کرے اور مجھ کو دیکھ لے۔“

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، وَقُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَعَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ السَّعْدِيُّ ، وَاللَّفْظُ لِيَحْيَى ، قَالُوا : حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنُونَ ابْنَ جَعْفَرٍ ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دِينَارٍ ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ ، يَقُولُ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ مِنَ الشَّجَرِ شَجَرَةً لَا يَسْقُطُ وَرَقُهَا ، وَإِنَّهَا مَثَلُ الْمُسْلِمِ ، فَحَدِّثُونِي مَا هِيَ ؟ " فَوَقَعَ النَّاسُ فِي شَجَرِ الْبَوَادِي ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، فَاسْتَحْيَيْتُ ، ثُمَّ قَالُوا : حَدِّثْنَا مَا هِيَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : فَقَالَ : " هِيَ النَّخْلَةُ " ، قَالَ : فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِعُمَرَ ، قَالَ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَ هِيَ النَّخْلَةُ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”درختوں میں ایک درخت ایسا ہے جس کے پتے نہیں گرتے وہی مثال ہے مسلمان کی، تو مجھ سے بیان کرو وہ کون سا درخت ہے؟“ لوگوں نے جنگل کے درختوں کا خیال شروع کیا۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میرے دل میں آیا وہ کھجور کا درخت ہے لیکن میں نے شرم کی (اور نہ کہا:)، پھر لوگوں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ بیان فرمائیے، وہ کون سا درخت ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ کھجور کا درخت ہے۔“سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر میں نے یہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے بیان کیا۔ انہوں نے کہا: اگر تو کہہ دیتا کہ وہ کھجور کا درخت ہے (جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تھا) تو مجھے ایسی ایسی چیزوں کے ملنے سے زیادہ پسند تھا۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : " أَخْبِرُونِي بِشَجَرَةٍ شِبْهِ أَوْ كَالرَّجُلِ الْمُسْلِمِ لَا يَتَحَاتُّ وَرَقُهَا ؟ " ، قَالَ إِبْرَاهِيمُ : لَعَلَّ مُسْلِمًا ، قَالَ : وَتُؤْتِي أُكُلَهَا وَكَذَا ، وَجَدْتُ عِنْدَ غَيْرِي أَيْضًا وَلَا تُؤْتِي أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ : فَوَقَعَ فِي نَفْسِي أَنَّهَا النَّخْلَةُ ، وَرَأَيْتُ أَبَا بَكْرٍ وَعُمَرَ لَا يَتَكَلَّمَانِ ، فَكَرِهْتُ أَنْ أَتَكَلَّمَ أَوْ أَقُولَ شَيْئًا ، فَقَالَ عُمَرُ : لَأَنْ تَكُونَ قُلْتَهَا أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ كَذَا وَكَذَا .

عبداللہ بن عمر روایت:

ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مجھ سے بیان کرو اس درخت کو جو مشابہ ہے یا مانند ہے مرد مسلمان کے جس کے پتے نہیں جھڑتے؟“ ابراہیم بن سفیان نے کہا: امام مسلم نے شاید یوں کہا: «وَتُؤْتِى أُكُلَهَا» (بغیر «لا» کے) لیکن میں نے اپنے سوا اور لوگوں کی روایت میں بھی یوں پایا «وَلاَ تُؤْتِى أُكُلَهَا كُلَّ حِينٍ» اور کوئی آفت نہیں پہنچتی . وہ اپنا میوہ دیتا ہے ہر وقت پر۔سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے کہا: میرے دل میں آیا کہ کہوں کہ کھجور ہے لیکن میں نے سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھا وہ نہیں بولتے تو مجھ کو برا معلوم ہوا بولنا یا کچھ کہنا۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اگر تو بول دیتا تو مجھ کو ایسی ایسی چیزوں سے زیادہ پسند تھا۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، وَهَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، أَخْبَرَنِي أَبُو صَخْرٍ ، عَنْ ابْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا صَلَّى قَامَ حَتَّى تَفَطَّرَ رِجْلَاهُ ، قَالَتْ عَائِشَةُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَتَصْنَعُ هَذَا وَقَدْ غُفِرَ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ ؟ ، فَقَالَ يَا عَائِشَةُ : أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا " .

عائشہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب نماز پڑھتے تو کھڑے رہتے یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاؤں پھٹ گئے۔ میں نے کہا: یا رسول اللہ! آپ اتنی محنت کیوں کرتے ہیں؟ آپ کے اگلے اور پچھلے گناہ بخش دئیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”: اے عائشہ! کیا میں اللہ کا شکر گزار بندہ نہ بنوں۔“

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَيَّاشٍ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ يَرْفَعُهُ ، قَالَ : " ثَلَاثَةٌ يُحِبُّهُمُ اللَّهُ : رَجُلٌ قَامَ مِنَ اللَّيْلِ يَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ ، وَرَجُلٌ تَصَدَّقَ صَدَقَةً بِيَمِينِهِ يُخْفِيهَا " , أُرَهُ قَالَ : " مِنْ شِمَالِهِ ، وَرَجُلٌ كَانَ فِي سَرِيَّةٍ فَانْهَزَمَ أَصْحَابُهُ فَاسْتَقْبَلَ الْعَدُوَّ " , قَالَ أَبُو عِيسَى : هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ ، وَهُوَ غَيْرُ مَحْفُوظٍ ، وَالصَّحِيحُ مَا رَوَى شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ عَنْ مَنْصُورٍ ، عَنْ رِبْعِيِّ بْنِ حِرَاشٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ظَبْيَانَ ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ كَثِيرُ الْغَلَطِ .

عبداللہ بن مسعود روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تین قسم کے لوگوں سے اللہ تعالیٰ محبت کرتا ہے: ایک وہ آدمی جو رات میں اٹھ کر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرے، دوسرا وہ آدمی جو اپنے داہنے ہاتھ سے صدقہ کرے اور اسے چھپائے اور تیسرا وہ آدمی جو کسی سریہ میں ہو اور ہار جانے کے بعد پھر بھی دشمنوں کا مقابلہ کرے“۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں