سود کی ممانعت

کل احادیث 41

سود کی ممانعت اور تجارت کے نبوی احکامات پر احادیث

ان احادیثِ مبارکہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سود کی ممانعت اور خرید و فروخت کے درست اسلامی طریقوں کو واضح فرمایا ہے۔ احادیث کے مطابق، ایک ہی جنس کی چیزوں کا آپس میں تبادلہ کرتے وقت برابری کا ہونا لازمی ہے۔ سونا سونے کے بدلے اور چاندی چاندی کے بدلے صرف برابر برابر اور دست بدست (نقد) ہی فروخت کی جا سکتی ہے، ان میں کمی بیشی یا ادھار کرنا منع ہے۔ اسی طرح کھجور کے تبادلے میں گھٹیا کھجور کی زیادہ مقدار کو عمدہ کھجور کی کم مقدار سے بدلنا عین سود قرار دیا گیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا شرعی حل یہ سکھایا کہ پہلے گھٹیا مال کو مارکیٹ میں پیسوں کے عوض فروخت کیا جائے، اور پھر ان پیسوں سے اپنی پسند کا عمدہ مال خریدا جائے تاکہ لین دین سود سے پاک رہے۔

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ : حَدَّثَنِي مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ الْمَجِيدِ بْنِ سُهَيْلٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اسْتَعْمَلَ رَجُلًا عَلَى خَيْبَرَ ، فَجَاءَهُ بِتَمْرٍ جَنِيبٍ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَكُلُّ تَمْرِ خَيْبَرَ هَكَذَا " ، فَقَالَ : لَا وَاللَّهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّا لَنَأْخُذُ الصَّاعَ مِنْ هَذَا بِالصَّاعَيْنِ وَالصَّاعَيْنِ بِالثَّلَاثَةِ ، فَقَالَ : " لَا تَفْعَلْ ، بِعِ الْجَمْعَ بِالدَّرَاهِمِ ، ثُمَّ ابْتَعْ بِالدَّرَاهِمِ جَنِيبًا " ،

´ہم سے اسماعیل نے بیان کیا ‘ کہا کہ مجھ سے امام مالک نے بیان کیا ‘ ان سے عبدالمجید بن سہیل نے ‘ ان سے سعید بن مسیب نے اور ان سے ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک صحابی (سواد بن غزیہ رضی اللہ عنہ) کو خیبر کا عامل مقرر کیا۔ وہ وہاں سے عمدہ قسم کی کھجوریں لائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت فرمایا کہ کیا خیبر کی تمام کھجوریں ایسی ہی ہیں؟ انہوں نے عرض کیا کہ نہیں، اللہ کی قسم یا رسول اللہ! ہم اس طرح کی ایک صاع کھجور (اس سے خراب) دو یا تین صاع کھجور کے بدلے میں ان سے لے لیتے ہیں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس طرح نہ کیا کرو ‘ بلکہ (اگر اچھی کھجور لانی ہو تو) ردی کھجور پہلے درہم کے بدلے بیچ ڈالا کرو ‘ پھر ان دراہم سے اچھی کھجور خرید لیا کرو۔

حَدَّثَنَا شَيْبَانُ بْنُ فَرُّوخَ ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ يَعْنِي ابْنَ حَازِمٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ ، قَالَ : سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ . ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ ابْنِ عَوْنٍ كُلُّهُمْ ، عَنْ نَافِعٍ بِنَحْوِ حَدِيثِ اللَّيْثِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِى شَيْبَةَ وَزُهَيْرُ بْنُ حَرْبٍ وَإِسْحَاقُ عَنِ ابْنِ عُيَيْنَةَ عَنِ الزُّهْرِىِّ بِهَذَا الإِسْنَادِ.

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنَا إِسْحَاق بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، وَابْنُ أَبِي عُمَرَ جَمِيعًا ، عَنْ عَبْدِ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيِّ ، عَنْ أَيُّوبَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ مذکورہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

حَدَّثَنَا عَمْرٌو النَّاقِدُ ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ الرَّبَعِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْمُتَوَكِّلِ النَّاجِيُّ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " الذَّهَبُ بِالذَّهَبِ مِثْلًا بِمِثْلٍ " فَذَكَرَ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ مندرجہ بالا حدیث اس سند سے بھی مروی ہے۔

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو سَعِيدٍ الْأَشَجُّ ، حَدَّثَنَا الْمُحَارِبِيُّ ، عَنْ فُضَيْلِ بْنِ غَزْوَانَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ وَلَمْ يَذْكُرْ يَدًا بِيَدٍ .

‏‏‏‏ یہ حدیث اس سند سے بھی مروی ہے مگر اس میں «يَدًا بِيَدٍ» کے الفاظ نہیں۔

وحَدَّثَنِيهِ أَبُو الطَّاهِرِ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَالِكَ بْنَ أَنَسٍ ، يَقُولُ : حَدَّثَنِي مُوسَى بْنُ أَبِي تَمِيمٍ بِهَذَا الْإِسْنَادِ مِثْلَهُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

حَدَّثَنِي إِسْحَاق بْنُ مَنْصُورٍ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ ، عَنْ يَحْيَى وَهُوَ ابْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي إِسْحَاق ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا بَكْرَةَ ، قَالَ : نَهَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، وَأَبُو كُرَيْبٍ ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَكٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَزِيدَ بِهَذَا الْإِسْنَادِ نَحْوَهُ .

‏‏‏‏ اس سند سے بھی مذکورہ بالا حدیث مروی ہے۔

حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ ، وَوَاصِلُ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى ، قَالَا : حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " التَّمْرُ بِالتَّمْرِ ، وَالْحِنْطَةُ بِالْحِنْطَةِ ، وَالشَّعِيرُ بِالشَّعِيرِ ، وَالْمِلْحُ بِالْمِلْحِ مِثْلًا بِمِثْلٍ يَدًا بِيَدٍ ، فَمَنْ زَادَ أَوِ اسْتَزَادَ ، فَقَدْ أَرْبَى إِلَّا مَا اخْتَلَفَتْ أَلْوَانُهُ " ،

ابوہریرہ روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بیچو کھجور کو کھجور کے بدلے اور گیہوں کو گیہوں کے بدلے اور جو کو جو کے بدلے اور نمک کو نمک کے بدلے برابر برابر، نقدا نقد پھر جو کوئی زیادہ دے یا زیادہ لے تو سود ہو گیا مگر جب قسم بدل جائے۔“ (تو زیادتی اور کمی درست ہے)۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں