نماز وتر

کل احادیث 125

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ آدَمَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ زُبَيْدٍ ، عَنْ ذَرٍّ ، عَنِ ابْنِ أَبْزَى ، مُرْسَلٌ , وَقَدْ رَوَاهُ عَطَاءُ بْنُ السَّائِبِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبْزَى ، عَنْ أَبِيهِ .

´اس سند سے (سعید بن عبدالرحمٰن) بن ابزیٰ نے` یہ حدیث مرسلاً (یعنی سند میں انقطاع کے ساتھ) روایت کی ہے، لیکن اسے عطا بن سائب نے سعید بن عبدالرحمٰن بن ابزیٰ رضی اللہ عنہ کے واسطے سے عبدالرحمٰن بن ابزیٰ سے متصلاً روایت کی ہے۔

حَدَّثَنَا ابْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ ، حَدَّثَنَا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ مِنْ أَزْدِ شَنُوءَةَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ لَا أَدَعُهُنَّ فِي سَفَرٍ وَلَا حَضَرٍ : رَكْعَتَيِ الضُّحَى ، وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنَ الشَّهْرِ ، وَأَنْ لَا أَنَامَ إِلَّا عَلَى وِتْرٍ " .

ابوہریرہ روایت:

مجھے میرے خلیل (یار، صادق، محمد) صلی اللہ علیہ وسلم نے تین باتوں کی وصیت کی ہے، جن کو میں سفر اور حضر کہیں بھی نہیں چھوڑتا: چاشت کی دو رکعتیں، ہر ماہ تین دن کے روزے اور وتر پڑھے بغیر نہ سونے کی۔

أَخْبَرَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ سَلْمٍ , وَمُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ , عَنِ النَّضْرِ بْنِ شُمَيْلٍ ، قال : أَنْبَأَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ أَبِي شِمْرٍ ، عَنْ أَبِي عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : النَّوْمِ عَلَى وِتْرٍ , وَصِيَامِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ , وَرَكْعَتَيِ الضُّحَى " .

ابوہریرہ روایت:

میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی وصیت کی ہے: وتر پڑھ کر سونے کی، ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی، اور چاشت کی دونوں رکعتیں پڑھنے کی۔

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قال : حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ ، قال : حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، ثُمَّ ذَكَرَ كَلِمَةً مَعْنَاهَا ، عَنْ عَبَّاسٍ الْجُرَيْرِيِّ ، قال : سَمِعْتُ أَبَا عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قال : " أَوْصَانِي خَلِيلِي صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِثَلَاثٍ : الْوِتْرِ أَوَّلَ اللَّيْلِ , وَرَكْعَتَيِ الْفَجْرِ , وَصَوْمِ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ مِنْ كُلِّ شَهْرٍ " .

ابوہریرہ روایت:

میرے خلیل صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے تین باتوں کی نصیحت کی: شروع رات میں وتر پڑھنے کی، فجر کی رکعت سنت پڑھنے کی، اور ہر مہینہ تین دن کے روزے رکھنے کی۔

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ ، عَنْ قَتَادَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ الْبَادِيَةِ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ بِأُصْبُعَيْهِ هَكَذَا : " مَثْنَى مَثْنَى ، وَالْوِتْرُ رَكْعَةٌ مِنْ آخِرِ اللَّيْلِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

دیہات کے ایک شخص نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے تہجد کی نماز کے بارے میں پوچھا تو آپ نے اپنی دونوں انگلیوں سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ”اس طرح دو دو رکعتیں ہیں اور آخر رات میں وتر ایک رکعت ہے“۔

حَدَّثَنَا هَارُونُ بْنُ مَعْرُوفٍ ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي زَائِدَةَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " بَادِرُوا الصُّبْحَ بِالْوِتْرِ " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صبح ہونے سے پہلے وتر پڑھ لیا کرو“۔

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی رات کی آخری نماز وتر کو بنایا کرو“۔

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يُوسُفَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا مَالِكٌ ، عَنْ نَافِعٍ ، وَعَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ صَلَاةِ اللَّيْلِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَام : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ صَلَّى رَكْعَةً وَاحِدَةً تُوتِرُ لَهُ مَا قَدْ صَلَّى " .

عبداللہ بن عمر روایت:

ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رات میں نماز کے متعلق معلوم کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ رات کی نماز دو دو رکعت ہے پھر جب کوئی صبح ہو جانے سے ڈرے تو ایک رکعت پڑھ لے، وہ اس کی ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمَانَ ، قَالَ : حَدَّثَنِي بْنُ وَهْبٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي عَمْرُو ، أَنَّ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ الْقَاسِمِ حَدَّثَهُ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " صَلَاةُ اللَّيْلِ مَثْنَى مَثْنَى ، فَإِذَا أَرَدْتَ أَنْ تَنْصَرِفَ فَارْكَعْ رَكْعَةً تُوتِرُ لَكَ مَا صَلَّيْتَ " ، قَالَ الْقَاسِمُ : وَرَأَيْنَا أُنَاسًا مُنْذُ أَدْرَكْنَا يُوتِرُونَ بِثَلَاثٍ وَإِنَّ كُلًّا لَوَاسِعٌ أَرْجُو أَنْ لَا يَكُونَ بِشَيْءٍ مِنْهُ بَأْسٌ .

عبداللہ بن عمر روایت:

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، رات کی نماز دو، دو رکعتیں ہے اور جب تو ختم کرنا چاہے تو ایک رکعت وتر پڑھ لے جو ساری نماز کو طاق بنا دے گی۔ قاسم بن محمد نے بیان کیا کہ ہم نے بہت سوں کو تین رکعت وتر پڑھتے بھی پایا ہے اور تین یا ایک (رکعت وتر) سب جائز اور مجھ کو امید ہے کہ کسی میں قباحت نہ ہو گی۔

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ ، قَالَ : حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، حَدَّثَنِي نَافِعٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : "اجْعَلُوا آخِرَ صَلَاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْرًا " .

عبداللہ بن عمر روایت:

´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید نے بیان کیا، ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بیان کیا` اور ان سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وتر رات کی تمام نمازوں کے بعد پڑھا کرو۔

ترتیبات

زبان

فونٹ کی ترتیبات

عربی فونٹ

عربی فونٹ سائز

24

ترجمہ فونٹ سائز

18

پڑھنے کا لے آؤٹ

ایپ ڈاؤن لوڈ کریں - الحدیث

App Banner

اسلامی علم پھیلانے میں مدد کریں

آپ کی مسلسل حمایت ہمیں اسلام کا پیغام پہنچانے میں مدد کرے گی۔

ہماری مدد کریں